dargah

آج عیدالفطر کی تقریب سعید،نمازعیدکے عظیم الشان اجتماعات کاہوگاانعقاد

سب سے بڑااجتماع تاریخی درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوگا،عید گاہ گیلے ہونے کے باعث بیشتر علاقوں میں نماز عید جامع مساجدمیں اداکی جائیگی

سری نگر//ماہ رمضان المبارک کے 30دن پورے ہونے کے بعد عیدالفطر کی تقریب سعیدآج یعنی22،اپریل بروزہفتہ کوپوری اسلامی عقیدت واحترام کیساتھ منائی جائیگی ،اوراس بابرکت دن کو انفرادی اوراجتماعی انداز میں منانے کی تمام ضروری تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔انتظامیہ نے عیدالفطر منانے اوراس دن ہونے والے عظیم الشان نماز عید کے اجتماعات کے پیش نظراپنی جانب سے تمام ضروری انتظامات اور اقدامات روبہ عمل لائے ہیں ،حالیہ دنوںکی مسلسل بارشوں کی وجہ سے عیدگاہوںمیں پانی جمع ہونے کے پیش نظر کشمیروادی کے بیشترعلاقوںمیں نماز عیدالفطر کے اجتماعات عیدگاہوں کے بجائے جامع مساجد میں ہی منعقد ہونگے ،اور جموں وکشمیر میں نماز عیدالفطر کاسب سے بڑا اورعظیم الشان اجتماع تاریخی آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوگا جبکہ شہرخاص میں واقع مرکزی جامع مسجد میں بھی نماز عیدالفطر کا بڑا اجتماع متوقع ہے۔جے کے این ایس کے مطابق 29ماہ رمضان کی شام کوشوال کاچاند نظرنہ آنے کے بعدعلمائے کرام نے الگ الگ اجلاسوںمیں یہ فیصلہ لیاکہ بھارت اور پاکستان میں نماز عیدالفطر22،اپریل بروز ہفتہ(سنیچروار) کومنائی جائے گی ۔جمعرات کوشام اور رات دیر گئے دونوں ملکوںکی مرکزی اورعلاقائی رویت ہلال کمیٹیوں کی جانب سے نماز عیدالفطر 22اپریل کومنانے کااعلان کیاگیا،جسکے بعد مساجد میں جمع لوگوںنے آخری نماز تراویح باجماعت ادا کی ،کیونکہ ماہ مبارک کے آخری دن نماز عشاء کیساتھ تراویح ادانہیں کی جاتی ہے ۔سری نگرشہر سمیت پورے جموں وکشمیرمیں عیدالفطر کوروایتی مذہبی جوش وجذبے اور عقیدت واحترام کیساتھ منانے کی تیاریوںکو جمعہ کے روز حتمی شکل دی گئی ،تمام بڑی جامع مساجد ،درگاہوں ،آستانوں اور زیارت گاہوں کے منتظمین نے نماز عیدالفطر کے وقت اور اجتماعات کیلئے لازمی اقدامات کوحتمی شکل دی ۔کشمیروادی کے اطراف واکناف میں آج علی الصبح سے ہی نماز عیدالفطر کے اجتماعات کاخشووخضوکیساتھ اہتمام کیاجائے گا،اور نمازعیدالفطر کے بابرکت اورمقدس اجتماعات ہفتہ کوصبح ساڑھے 6سے صبح دس اورساڑھے10بجے تک منعقد ہونگے۔لاکھوں فرزندازن توحید بشمول بزرگ شہری اور کمسن بچے پاک وصاف اور نئے لباس زیب تن کرکے اور باوضو ہوکر نزدیکی عیدگاہوں ،امام بارگاہوں،جامع مساجد اور دیگر ایسے مقامات کارُخ کریں گے ،جہاں نماز عید کے اجتماعات منعقد ہونگے ۔شہرسرینگر اوروادی کے دیگرنواضلاع بشمول بڈگام،گاندربل،بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ ،پلوامہ ،اننت ناگ ،کولگام اورشوپیان میں نماز عید کے بڑے بڑے اجتماعات کاانعقاد ہورہاہے ،تاہم بیشتر مقامات پر عیدگاہ گیلے ہونے کی وجہ سے نماز عید نزدیکی جامع مساجد میں ہی اداکی جائے گی ۔اسے پہلے فرزندان توحید ہفتہ کوعلی الصبح نمازفجر اداکرنے کے بعد آبائی مقبروں پرجاکر اپنے متوفی عزیزوں اور رشتہ داروں بشمول والدین اور بھائی بہنوں وبچوں کی فاتح خوانی کریں اور رب کائنات سے ان متوفین کے بلنددرجات اورگناہوںکی بخشش کیلئے دعائے مغفرت کریں گے ۔نمازعید سے قبل مقررین اس عظیم ،مقدس اور بابرکت دن پرروشنی ڈالیں گے ،اور امام صاحبان لوگوںکو نماز عید کاطریقہ بتائیں گے ،جو 6تکبرات کیساتھ اداکی جائیگی ،جسکے بعد امام صاحبان خطبہ عید پڑھیں گے اورسبھی لوگوں کیلئے یہ واجب ہے کہ وہ 6تکبیرات کیساتھ 2رکعت پرمشتمل نماز عیدالفطر اداکرنے کے بعد خطبہ سنیں اور پھراجتماعی دعائوںمیں بھی شامل رہیں ۔