mental health

بھارت میں دماغی صحت سے متعلق مسائل خصوصی توجہ کے مستحق

گزشتہ سال 2021ء میں 45 ہزار سے زائد خواتین نے خود اپنی جان لی

سرینگر// بھارت میں تقریبا 150ملین افراد کو ذہنی صحت سے متعلق طبی خدمات کی شدید ضرورت ہے لیکن سرکاری اور غیرسرکاری تنظیمیں اس مسئلے سے بڑی حد تک غافل ہیں۔ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت میں مردوں کے مقابلے میں خواتین میں خود کشی کے رجحان میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ دنیا میں خودکشی کرنے والی خواتین میں سے تقریبا 36 فیصد کا تعلق بھارت سے ہے۔سی این آئی کے مطابق دنیا کی طبقہ اناث کی آبادی میں بھارت کا تناسب 18 فی صد ہے۔ گزشتہ سال 2021ء میں 45 ہزار سے زائد خواتین نے خود اپنی جان لی۔ یہ تشویشناک امر اس بات کا غماز ہے کہ ہم نے خواتین کی دماغی یا ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی طرف وہ توجہ نہیں دی ہے، جس کی وہ متقاضی ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے اس وقت بھارت میں تقریبا 150ملین افراد کو ذہنی صحت سے متعلق طبی خدمات کی شدید ضرورت ہے لیکن سرکاری اور غیرسرکاری تنظیمیں اس مسئلے سے بڑی حد تک غافل ہیں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جو سائنسی تحقیق سے ثابت ہے کہ دماغی و جسمانی صحت کے درمیان ایک گہرا تعلق پایا جاتا ہے کیونکہ جذبات اور ہیجانات انسانی جسم کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ اگر ہماری دماغی حالت اچھی ہے تو اس صورت میں نہ صرف جسمانی صحت اچھی رہتی ہے بلکہ ہمارے عرصہ حیات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ آج ہماری زندگی اتنی تیز رفتار ہوگئی ہیکہ ہم اپنے مسائل، پریشانیوں اور ذہنی اضطراب کو بروقت حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ہماری شخصیت اندر ہی اندر کئی طرح کی جسمانی و نفسیاتی عوارض کا منبع بن جاتی ہے، جس سے نہ صرف ہمارا سکون غارت ہوجاتا ہے بلکہ معمولات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ستم بالائے ستم یہ کہ ہم معاشرے کے ڈر سے کہ لوگ کیا کہیں گے! ماہرین نفسیات سے رجوع کرنے سے کتراتے ہیں۔ دماغی صحت سے متعلق ادارہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز )این آئی ایم ایچ اے این ایس) کے ایک تازہ ترین سروے سے معلوم ہوا ہے کہ بھار ت میں تقریبا 15 کروڑ نفوس ایسے ہیں، جن کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں۔ انہیں طبی خدمات بہم پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ ان میں محض تین کروڑ سے کم افراد اپنے ذہنی یا نفسیاتی عوارض کا علاج کرانا چاہتے ہیں۔وہی معاشرہ میں بدنامی کا ڈر جسے انگریزی میں اسٹگما کہتے ہیں، وہ سد راہ بن رہا ہے۔ برطانیہ کے مشہور طبی رسالہ النسیٹ نے بھارت میں سن 2017 میں ذہنی صحت سے متعلق ایک سروے کیا تھا۔ اس کے مطابق 1990ء￿ سے 2017ء کے درمیان نفسیاتی مریضوں کی تعداد دو گنا ہو گئی۔ جبکہ کووڈ وبائی مرض کے نتیجے میں پیدا شدہ صورت حال نے اس تعداد میں تشویشناک اضافہ کیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے سماج میں ذہنی صحت کے مسائل اکثر چھپائے جاتے ہیں۔ اس کی غالبا اہم وجہ یہی ہے کہ بھارت میں نفسیاتی عوارض سے متعلق تعلیم اور آگاہی کا کوئی خاص نظام نہیں ہے۔ ہماری آبادی کا غالب حصہ نفسیات کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف ہیں۔نفسیاتی بیماریوں کو ہمارے معاشرے میں ایک ‘عیب‘ سمجھا جاتا ہے۔ اس موضوع پر گفتگو کرنا بھی معیوب تصور کیا جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ بھارت کے تکثیری معاشرے ذہنی صحت کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی، جس کی وہ مستحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں ایک جائزہ کے مطابق ہر چار میں سے ایک فرد زندگی کے کسی بھی مرحلہ میں ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہوتا ہے۔ نفسیاتی مرض میں مبتلا 15فی صد کا تعلق عمر کے 18سال سے اوپر کے گروپ سے ہے۔نفسیاتی امراض کے متعدد عوامل ہیں۔ ورک پلیس یا کار گاہوں، دفتروں میں لوگ مختلف نوع کے ذہنی تناؤ کا شکار بنتے ہیں۔ جیسے اپنے باس سے کشیدہ تعلقات، کام کرنے کے لیے پوری آزادی اور اختیار کا نہ ملنا، کام کا طویل وقفہ،کام کی سخت نوعیت کے باعث تھکان، قرضوں کا بوجھ، کمپنی کے مالی بحران کے باعث ملازمت چلے جانے کا اندیشہ، اس کے علاوہ جنس، عمر، مذہب، تعلیمی پس منظر، ذات، وغیرہ کی بنیاد پر تعصب بھی ورک پلیس میں ذہنی تناؤ کا سبب بنتے ہیں۔ ان عوامل میں سب سے اہم مادہ پرستانہ سوچ اور حرص ہے۔ نیز بھارتی سماج میں پیدائش کی بنیاد پر اونچ نیچ کا مسئلہ بھی اس کا ایک بڑا عنصر ہے۔