لیفٹیننٹ گورنر نے کشمیر یونیورسٹی میں سالانہ یوتھ فیسٹول ’’ سنزل‘۔ 2022‘کا اِفتتاح کیا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج کشمیر یونیورسٹی میں سالانہ یوتھ فیسٹول ’’ س￿نزل۔2022ء‘‘ کا اِفتتاح کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس موقعہ پر حصہ لینے والے نوجوانوں کے لئے اَپنی نیک خواہشات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ فیسٹول نوجوان فن کاروں کے لئے اَپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا ایک بہترین موقعہ ہے اور ’’ س￿نزل‘‘ انہیں ’’ ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘‘ کے خواب کو پورا کرنے کے لئے اِنتہائی ضروری پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ’’ س￿نزل‘‘کا مطلب ہے قوس قزح، جو اُمید ، ترغیب اور خوش قسمتی کی علامت ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ طلباء کے پاس جب اِنفرادی ترقی ، آزاد سوچ اور اَپنے چھپے ہوئے خزانے کے دریافت کرنے کا موقعہ ہوتا ہے تو وہ پھر قو م کی تعمیر میں اَپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے تعلیمی اِداروں سے کہا کہ وہ یہ ذمہ داری اُٹھائیں کہ وہ طلباء کوتخلیقی صلاحیتوں کو پیدا کرنے کی خاطر کثیر السانی بننے کے لئے علم اور ہنرسے نوازے تاکہ وہ مستقبل میں ترقی کے منازل طے کرسکیں۔اُنہوں نے کہا کہ تخلیقی سرگرمیاں نوجوان طلباء کے لئے قائدانہ صلاحیتوں ، اِنسانی اقدار، خطرات مول لینے کی آمادگی، نئے خیالات کی طاقت کو سمجھنے، مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت اور شخصیت کے خصائل کو پروان چڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے مزید کہا کہ تعلیمی نظام میں اِنتخاب، تعاون، تجسس، مواصلات، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں، تحقیق اور بہتر مشغولیت کو یقینی بنانے پر ہماری توجہ بہتر تعلیمی اہداف پیدا کر سکتی ہے اور طلباء کو ضروری ہنروں، علم اور اقدار سے آراستہ کر سکتی ہے۔ اُنہوںنے کہا کہ تعلیم پہلے آنے کی دوڑ سے متعلق نہیں ہے بلکہ تعلیم زندگی میں اَقدار کی بلند ترین چوٹی کو حاصل کرنے کے بارے میں ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِداروں کو یقینی بنانا چاہیے کہ نئے سیکھنے کے فریم ورک اور کلیدی تصورات جیسا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی سفارش کی گئی ہے نصاب میں شامل کیا جائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے تخلیقی صلاحیتوں، تنقیدی سوچ، نصاب کے اوورلوڈ کو بدلنے کے لیے تعاون، معیاری سیکھنے کے لئے خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نصاب زیادہ موافقت پذیر اور متحرک ہونا چاہیے جو جدید اِختراعات کے لئے جگہ فراہم کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے قومی تعلیمی پالیسی کی سفارشات کو شامل کرنے کی خاطرضروری تبدیلیاں کرنے کے لئے کشمیر یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہا۔ اُنہوں نے کہا، ’’یونیورسٹی آف کشمیر کو ایک سینٹر آف ایکسیلنس میں تبدیل کیا گیا ہے اور سائنسی تحقیق، نئے خیالات اور علم کو فروغ دیا گیا ہے اور تعلیمی منظر نامے کے بنیادی پہلوؤں میں دنیا بھر میں تیز رفتار تبدیلیوں کے مطابق ڈھال لیا گیا ہے۔‘‘وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان نے میگا یوتھ فیسٹیول کے مقاصد کے بارے میں بتایا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایات کے مطابق تعلیمی ترقی اور نوجوانوں کو بااِختیار بنانا یونیورسٹی کا بنیادی مقصد ہے اور یہ یوتھ فیسٹول اِسی سمت میں ایک قدم ہے۔وائس چانسلر آئی یو ایس ٹی پروفیسر شکیل احمد رومشو نے کشمیر یونیورسٹی کو نوجوانوں کو اَپنی صلاحیتوں کے اِظہار کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے پر مبارک باد دی۔اِفتتاحی تقریب کے دوران یونیورسٹی کے طلباء نے یونیورسٹی ترانہ پر دلکش پرفارمنس اور رنگا رنگ رقص پیش کیا۔بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو نارتھ زون یوتھ فیسٹول اوربعد میںنیشنل یوتھ فیسٹول میں بھی حصہ لینے کا موقعہ ملے گا۔اِس موقعہ پر صوبائی کمشنر کشمیر پانڈورانگ کے پولے ، اے ڈی جی پی کشمیر وِجے کمار ، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر محمد اعجاز ، ڈین سٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر انیسہ شفیع ، سابق وائس چانسلروں ، رجسٹرار کشمیر یونیورسٹی ،سٹیلائٹ کیمپس کے ڈائریکٹروں ، ڈینز ، سربراہاں، ریسرچ سکالروں او رطلباء کی بڑی تعداد موجود تھی۔