nasirul islam

ہماری نوجوان پود منشیات سے تباہ ہورہی ہے ۔ مفتی ناصر الاسلام

سرینگر//جموںکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے وادی کشمیر میں منشیات کی بڑھتی وباء پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15سے 35برس عمر تک کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد منشیات کی عادی بن چکی ہے جبکہ نوجوانوں نے اب پڑھنا لکھنا چھوڑ دیا ہے اور وہ اپنا تر زیادہ وقت انٹرنیٹ پر صرف کرتے ہیںجو ہمارے معاشرے کیلئے تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب پر خطاب کرتے ہوئے جموںکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے کہا ہے کہ نوجوانوں نے پڑھنا لکھنا اب چھوڑ دیا ہے اور وہ اب زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر صرف کرتے ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ یہ دور ہمارے معاشرے کیلئے سخت تباہی کا دور ثابت ہوگیا کیونکہ ہمارے گھروںمیں ایک کمرے میںبیٹھ کر بیٹی ایک موبائل لیکر ہوتی ہے اور ماں دوسرا موبائل لیکر اور ستم ظریفی یہ ہے کہ باپ ایک کونے میں اور اس کا بیٹا دوسرا کونے میں موبائل پر وقت گزاری کرتا رہتا ہے کون کیا دیکھتا ہے اور کس طرح موبائل کا استعمال کرتا ہے یہ کسی کو جاننے کی فکر نہیں ہے ۔ مفتی ناصرالاسلام نے کہاہے کہ کشمیریوں کی ایک نسل بندوق کی نذر ہوئی اور گولیاں کھاکھاکر قبرستانوں میںچلے گئے اور اب دوسری نسل منشیات کی نذر ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سرکار بھی دعویٰ کررہی ہے کہ منشیات کے خاتمہ کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر کچھ نظر نہیں آرہا ۔ انہوںنے کہا کہ منشیات کہاں سے آتی ہے اور کون سے عناصر اس کے پیچھے اور کس مقصد سے یہاں کے نوجوانوں کو تباہ کیاجارہا ہے یہ ہم نہیں جانتے ۔ مفتی ناصر نے کہا کہ قوم کس سمت جارہی ہے کسی کو معلوم نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس تباہی کیلئے اگر کوئی ذمہ وار ہے تو وہ ہم خود ہے کیوںکہ ہم نے اللہ کا راستہ چھوڑ دیا ہے ۔ مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ قرآن پاک میں 80فیصدی درس اخلاقات پر مرکوز ہے لیکن ہم قرآن نہ پڑھتے ہیں اور ناہی سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ آج کے دور میں اگر بدعات، منشیات اور دیگر خرافات سے بچنا ہے تو ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام کر قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کا استعمال تعلیمی حصول اور جانکاری کیلئے کیا جائے تو اس میںکوئی خرابی نہیں ہے تاہم اگر اس کا غلط استعمال جاری رہا تو یہ قوم کیلئے تباہی کاباعث بن سکتا ہے ۔