باقی 20فیصد دہشت کوروکنے اورکشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی کیلئے کئی اقدامات: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ
سری نگر// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاہے کہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں اور ان کے خلاف تشدد میں کافی کمی آئی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ پنڈتوں کے خلاف جو بھی تشدد ہو رہا ہے وہ نہیں ہونا چاہیے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق گجرات کنکلیو پروگرام میں بدھ کوآجتک نیوز چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھا گیا کہ آرٹیکل370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے باوجود کشمیری پنڈتوں پر حملے ہو رہے ہیں۔جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے خلاف مظالم 1990 سے جاری ہیں لیکن اگر آپ اعداد و شمار کو دیکھیں تو یہ آئین ہند کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد سب سے کم ہو گئے ہیں ۔ امت شاہ کاکہناتھاکہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کی حفاظت کیلئے بہت سے اقداماتکئے گئے ہیں،تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ دہشت گردی مکمل طور پر قابو میں نہیں ہے اور اسے ختم کرنے میں وقت لگے گا۔ مرکزی وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ کشمیر وادی میں دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 100 سے کم ہو کر 20فیصد تک لے کر اچھی سمت میں جا رہے ہیں، لیکن ہمارا ہدف یہ ہے کہ یہ 20 فیصد واقعات بھی رونما نہ ہوں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یاد دلایا کہ1990سے1998 کے دوران جموں و کشمیر میں ایک دن میں20 یا 25 لوگ مارے جاتے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہائبرڈ ملی ٹنٹ وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں اور دیگر غیر مقامی لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔تاہم ٹارگٹ کلنگ میں ملوث زیادہ تر ملی ٹنٹوں کو پولیس اور سکیورٹی فورسز نیہلاک یاگرفتار کیا ہے۔جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کب ہوں گے اس سوال کے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شا ہ نے جواب دیاکہجب الیکشن کمیشن چاہے۔جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کئے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ حکومت اپنے موقف میں بالکل واضح ہے۔انہوںنے کہاکہ سب سے پہلے حد بندی کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اب ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کا عمل جاری ہے جس کے بعد اسمبلی انتخابات ہوں گے اور پھر ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ایک اورسوال کا جواب دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) اپنے آغاز سے ہی بی جے پی کا ایجنڈا رہا ہے اور ایسا کوئی انتخابی منشور نہیں ہے جہاں انہوں نے یو سی سی کا ذکر نہ کیا ہو۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہاکہ یکساں سول کوڈ ہماری پارٹی کا ایجنڈا رہا ہے جب سے یہ 1950 میں بنی تھی۔ اس مسئلے پر ہمارے بانی شیاما پرساد مکھرجی نے وزیر تجارت اور صنعت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور بھارتیہ جن سنگھ کا سنگ بنیاد رکھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ مذہب زمین کے قانون کی بنیاد نہیں ہو سکتا۔ ہمارے آئین سازوں نے کہا کہ جب اور جب ضرورت ہو، ریاستی اسمبلیاں اور پارلیمنٹ یو سی سی کو لا سکتے ہیں اور بالکل وہی ہے جو ہم کر رہے ہیں۔










