بجلی کی غیر ضروری کٹوتی سے صارفین کو گونا گو مشکلات کا سامنا :ڈی ڈی سی ممبر عنایت اللہ راتھر
سری نگر//سردیوں کے ایام شروع ہوتے ہی وادی کشمیر میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ شروع ہوا بجلی کی غیر ضروری کٹوتی سے عوام کو گونا گو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان باتوں کا اظہار ضلع کولگام کے دو الگ الگ علاقوں کے پنچاتی راج کے نمائندوإ نے میڈیا سے بات کرتے ہوہے کہا علاقے ہوم شالی بک کے ڈی۔ڈی۔سی عنایت اللہ راتھر نے میڈیا سے بات کرتے ہوہے کہا کہ سردیوں کے ایام آتے ہی علاقے ہوم شالی بک کے متعد علاقے بجلی کی کٹوتی سے پریشان ہونے لگے ہے انہوں نے کہا کہ پی ڈی سی ایل نے موسم سرما کے دوران بجلی کی کٹوتی کا نیا شیڈول جاری کیا ہے۔کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ یعنی پی ڈی سی ایل نے پیر کو سرینگر کے لیے موسم سرما کے دوران بجلی کی کٹوتی کا نیا شیڈول جاری کیا ہے، بجلی کا نیا شیڈول 15 نومبر یعنی منگل سے نافذ العمل ہوگا۔انہوں نے کہا اسطرح کے پاورشیڈول گاوں کے لیے مصیبت کا باعث بنتا ہے۔وہی علاقے نورآباد اہربل کی ڈی۔ ڈی۔سی جمیلا چودی نے سخت نقطہ چینی کرتے ہوے کہا کہ پی ڈی سی ایل کے جاری کردہ نئے کٹوتی شیڈول کے مطابق میٹر والے سرینگر کے علاقوں میں بجلی میں روزانہ ساڑھے 4 گھنٹے کی کمی کی گئی ہے۔ مذکورہ علاقوں کو صبح، دوپہر اور شام کے اوقات کے دوران ڈیڑھ گھنٹے تک برقی رو نہیں رہے گی.انہوں نے کہا اسطرح کے بجلی شیڈول کولگام کے نورآباد کے لیے مصیبت ہے کیوں کہ علاقے میں گوجر بکروال زیادہ رہتے ہے اور کچھ دنوں سے علاقے میں بجلی نظام کا فکدان ہے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ خاصکر گوجر بکرول اسکولوں میں بجلی اور گرمی کا انتظام رکھے تاکہ سردیوں میں غریب بچوں میں کوئی مثبت نہ آئے۔










