محکمہ خوراک و صنعت کے افسرعام شہریوں کی زندگیوں سے نہیں کھیل سکتے :معززجج
سری نگر//سپریم کورٹ نے جمعہ کو جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے ضلع ادھم پور میں کھانسی کی جعلی شربت کے استعمال سے مرنے والے10 بچوں کے لواحقین کوفی متاثرہ کنبہ3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کے قومی انسانی حقوق کمیشن کے حکم کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کر دیا۔ جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس ایم ایم سندریش پرمشتمل سپریم کورٹ کے 2نفری بنچ نے کہا کہ افسران نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور اسے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ملتی ہے۔انہوںنے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مخاطب ہوکر کہاکہ آپ کے افسران غفلت میں پائے گئے ہیں، اُنہیں ہوشیار رہنا چاہیے تھا۔ سپریم کورٹ کے 2نفری بنچ نے وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں محکمہ خوراک و صنعت کے بارے میں باتیں کرنے پر مجبور نہ کریں، شہریوں کی صحت ان کے ہاتھ میں ہے،۔ وہ اپنے فرائض سر انجام نہیں دیتے، وہ شہریوں کی زندگیوں سے نہیں کھیل سکتے،اوریہ کہ چیزوں کی جانچ اور تصدیق کرنا ان کا فرض ہے۔سپریم کورٹ جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے3 مارچ 2021 کے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کی سماعت کر رہی تھی جس نے قومی انسانی حقوق کمیشنNHRC کے حکم کے خلاف اس کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔یادرہے جموں وکشمیر کے ضلع ادھم پور کی رام نگر تحصیل میں دسمبر 2019 اور جنوری2020 میں کھانسی کی زہریلی یا جعلی شربت پینے سے10کمسن بچوں کی موت واقعہ ہو گئی تھی۔ قومی انسانی حقوق کمیشن ’این ایچ آر سی‘ نے ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی جانب سے طریقہ کار کی کوتاہیوں کو پایا۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے جموں و کشمیرانتظامیہ کو ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹکی طرف سے ہونے والی کوتاہیوں کے لئے سخت ذمہ دار ٹھہرایا اور مرنے والے10بچوں کے لواحقین کو فی کس3 لاکھ روپے معاوضہ دینے کی سفارش کی۔










