فوج کی آپریشنل تیاریوںکاتفصیلی جائزہ، 10 نومبرکووزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا خطاب
سری نگر//فوج کے اعلیٰ کمانڈرنئی دہلی میں5 روزہ کانفرنس کے دوران چین اور پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر ہندوستان کے قومی سلامتی کے چیلنجوں اور 1.3 ملین مضبوط فورس کی جنگی صلاحیت کو بڑھانے کے طریقوں کا ایک جامع جائزہ لیں گے۔ حکام نے بتایا کہ فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کی کانفرنس علاقائی سلامتی کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور روس،یوکرین جنگ کے جغرافیائی سیاسی مضمرات پر بھی توجہ مرکوز کرے گی۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نئی دہلی میں حکام نے کہا کہ 7 سے 11 نومبر تک قومی دارالحکومت میں منعقد ہونے والی5روزہ کانفرنس میں’’مستقبل کیلئے تیار فورس میں تبدیلی کی ضرورتوں‘‘سے متعلق بات چیت کی جائے گی تاکہ آپریشنل تاثیر میں اضافہ ہو۔کانفرنس کے ایک حصے کے طور پر جو سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، ان میں’’عصری ہند-چین تعلقات‘‘کے ساتھ ساتھ’’قومی سلامتی کے لئے تکنیکی چیلنجز‘‘ پر ممتاز ماہرین کی بات چیت بھی شامل ہے۔حکام نے بتایاکہ 5 روزہ کانفرنس کے دوران صلاحیتوں کی نشوونما اور فورس کی آپریشنل تیاریوں کو بڑھانے کیلئے مخصوص منصوبوں پر بھی غور کیاجائے گا۔حکام نے بتایاکہ آرمی کمانڈرز کانفرنس ایک اعلیٰ سطح کی2 سالہ تقریب ہے، جو اپریل اور اکتوبر میں منعقد ہوتی ہے۔ یہ کانفرنس تصوراتی سطح پر بات چیت کے لئے ایک ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے، جس کا اختتام ہندوستانی فوج کیلئے اہم پالیسی فیصلے کرنے پر ہوتا ہے۔حکام نے بتایا کہ فوج کے اعلیٰ کمانڈر مشرقی لداخ میں بعض پیچیدہ پوائنٹس پر چین کیساتھ دیرپا فوجی تعطل کے پیش نظر3400 کلومیٹر لمبی لائن آف حقیقی کنٹرول (LAC) کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی فوجی تیاریوں کا بھی ایک جامع جائزہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے دوران جموں و کشمیر میں انسداد دہشت گردی آپریشن کیساتھ ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی مجموعی صورتحال پر بھی کانفرنس میں بڑے پیمانے پر غور کیا جائے گا۔فوجی حکام نے کہاہے کہ اس کانفرنس کے دوران، ہندوستانی فوج کی اعلیٰ قیادت موجودہ اور ابھرتی ہوئی سیکورٹی اور انتظامی پہلوؤں پر غور و فکر کرے گی تاکہ ہندوستانی فوج کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔کانفرنس میں دفاع میں ’’آتمانیربھارت‘‘ (خود انحصاری) کو فروغ دینے کے لئے شامل کی جانے والی تبدیلیوں، انسانی وسائل کے انتظام کی نئی پالیسی کے نفاذ اور ترقی پسند فوجی تربیت پر بھی غور کیا جائے گا۔ ایک بیان میں کہاگیاکہ آرمی کمانڈروں کی طرف سے پیش کردہ مختلف ایجنڈا پوائنٹس پر گہرائی سے بات چیت، بشمول (کمانڈر ان چیف، انڈمان اور نکوبار کمانڈ) کی تازہ کاری اور مختلف پرنسپل اسٹاف افسران کی طرف سے مختلف امور پر بریفنگ بھی طے کی گئی ہے،انڈمان اور نکوبار کمانڈ ہندوستان کی واحد سہ فریقی کمانڈ ہے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 10 نومبر کو آرمی کمانڈروں کی اس اعلیٰ سطحی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان،بری فوج کے سربراہ، ہندوستانی بحریہ اور ہندوستانی فضائیہ کے سربراہان بھی ہندوستانی فوج کی سینئر قیادت سے سہ فریقی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مواقع پر خطاب کریں گے۔










