آئی آئی اے پی نے جموں وکشمیر میں سینٹرس آف ایکسی لینس کے قیام پر تبادلہ خیال کیا
جموں//اِنڈیا میں اِسرائیل کے سفارت خانے میں ایگریکلچر اتاشی ’ایم اے ایس ایچ اے وِی‘ یایرا یشیل نے آج یہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار محکمہ اَتل ڈولو کے ساتھ ملاقات کی اور اُنہیں جموں وکشمیر یوٹی میں سینٹر س آف ایکسی لینس کے قیام کے اِنڈواسرائیل ایگریکلچر پروجیکٹ( آئی آئی اے پی )کے بارے میں بریفنگ دِی۔اِس موقعہ پرپروجیکٹ آفیسر ایم اے ایس ایچ اے وِی برہما دیو، ڈائریکٹر زراعت جموں کے کے شرما، ڈائریکٹر زراعت کشمیر محمد اِقبال چودھری ، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر جموں سیوک رام ، جوائنٹ ڈائریکٹرا اِن پُٹ ،فارمز ، مشروم شہد پالن اور دیگر متعلقین بھی موجود تھے۔ایگری کلچر اَتاشی نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اِنڈیا او راِسرائیل کے درمیان زراعت شعبے میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ( جی ٹو جی) سطح پر سٹریٹجک تعاون ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آئی آئی اے پی کا مقصد فصلوں کے تنوع کو متعارف کرنا، پیداواری صلاحیت میں اِضافہ اور پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ آئی آئی اے پی کو سینٹرس آف ایکسی لینس ( سی او اِی) کے قیام سے لاگو کیا جارہا ہے جس میں اسرائیلی زرعی ٹیکنالوجی اور علم کو پھیلایا جاتا ہے او رمقامی حالا ت کے مطابق بنایا جاتا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِسرائیلی شراکت دار ایم اے ایس ایچ اے وِی سی او اِی کے معیار کی رہنمائی کرے گااور اِسرائیلی علم کو آئی آئی اے پی میں منتقل کرے گا۔اُنہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو جموں صوبہ کے تین فارموں کے اَپنے دورے کے بارے میں آگاہ کیا جن میں ایس ایم فارم چنور، ایس ایم فارم چکروہی اور برمل فارم ہیرا نگر شامل ہیںاور اُنہیں بتایا کہ اِس خطے میں جدید ٹیکنالوجی کا اِستعمال کر کے سبزیاں او رپھل پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس کے لئے کسانوں او رمحکمہ کو مہارت اور تکنیکی معلومات کی شکل میں رہنمائی اور مدد فراہم کرنے کے لئے ایم ایس ایچ اے وِی تیار ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ سی او اِی اسرائیلی زرعی ٹیکنالوجی اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے علم کی منتقلی کے لئے جدید ، گہری زرعی فارمز ہیں اور ان کا مقصد منتخب کلیدی فصلوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کسانوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ہر سی او اِی نرسری کے اِنتظام ، بہترین طریقوں کا شت کاری کی تکنیک ، آبپاشی او رفرٹیگیشن پر مشتمل ہوگا اور یہ اکیڈیمی حکومت او رکسانوں کے لئے نتیجہ خیز کامیابیوں کے لئے تعاون کرنے کے لئے ایک میٹنگ پوائنٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ای اے ایس ایچ اے وِی ( اِسرائیل کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون) سٹریٹجک اور حکمت عملی کے پہلو سے آئی آئی اے پی کی قیادت کر رہی ہے جبکہ منصوبہ بندی اور عمل در آمد کے مرحلے ، علم کی منتقلی اور زرعی ٹیکنالوجی کے دوران پیشہ ورانہ قیادت فراہم کر رہی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ایم اے ایس ایچ اے وِی جموں اور کشمیر صوبوں میں دو ایک سی او اِی قائم کرنے کے لئے تیار ہے جس کے لئے محکمہ زراعت کے ساتھ مشاورت سے تفصیلی پروجیکٹ رِپورٹ تیار کی جائے گی۔ڈائریکٹر زراعت جموں کے کے شرما نے بتایا کہ سی او اِی کا قیام مشن فار اِنٹگریٹیڈ ڈیولپمنٹ اف ہارٹی کلچر ( ایم آئی ڈی ایچ ) سکیم کے تحت کیا جائے گا جس میں پروجیکٹ کی منظوری ، بجٹ او رنگرانی کی جائے گی جبکہ سٹیٹ اور یوٹی حکومتیں عملہ ، زمین اور دیگر بجٹ مختص کرتی ہیں۔اِس موقعہ پر اتل ڈولونے کہا کہ جموںوکشمیر میں سیب ، اخروٹ ، زعفران وغیرہ جیسی مخصوص فصلیں ہیں جہاں ہم اِسرائیلی ماہرین سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے توجہ مرکوز کرسکتے ہیں اور ان فصلوں کی برآمد کو بین الاقوامی سطح پر قابل قدر بناسکتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کے پاس زرعی منظر نامے کو تیار کرنے کے وسیع منصوبے ہیں جس کے لئے وہ پیداوار ی صلاحیت کو بڑھانے اور فصلوں کو بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کے لئے مہارت اور تکنیکی اقدام کی تلاش کر رہا ہے۔ٹیم نے جموں صوبہ کا اَپنا تین روزہ دورہ مکمل کیا ہے اور توقع ہے کہ وہ وادی کشمیر میں سی او اِی کے قیام کا جائزہ لینے کے لئے کشمیر کا بھی دورہ کرے گی۔ٹیم نے ڈائریکٹر زراعت جموں کے کے شرما کی درخواست پر جموں کا دورہ کیا۔










