پامپور کے کئی زعفران علاقوں کا بھی دورہ کیا ، پھول چُننے کے کاموں کا موقع پر جائیزہ لیا
پامپور // لفٹینٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے آج ڈسو پامپور میں انڈیا انٹر نیشنل کشمیر سیفران ٹریڈنگ سینٹر ( آئی آئی کے ایس ٹی سی ) کا دورہ کیا اور اس کے کام کاج کا جائیزہ لیا ۔ دورے کے دوران مشیر بٹھناگر نے آئی آئی کے ایس ٹی سی کے مختلف حصوں کا معائینہ کیا اور انہیں مرکز کے منتظم کے ذریعہ زعفران کے تحفظ ، گریڈنگ ، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ جیسی مختلف سہولیات کے بارے میں بتایا گیا ۔ مشیر نے مرکز کے عہدیداروں کے ساتھ بھی مختصر بات چیت کی اور ان سے یہاں زعفران کی پیداوار کی موجودہ صورتحال اور علاقے کے ترقی پسند کسانوں کیلئے مرکز کی جانب سے فراہم کئے جانے والے مارکیٹنگ رابطوں کے بارے میں دریافت کیا ۔ آئی آئی کے ایس ٹی سی کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے کہا کہ اس مرکز میں زعفران کی صنعت کو بحال کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے اور اس لئے اس مرکز کو اس کی زیادہ سے زیادہ حد تک استعمال کرنے کیلئے مناسب عزم ظاہر کیا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے سنٹر کی انتظامیہ سے زعفران کے زیادہ سے زیادہ کاشتکاروں کو اس سنٹر کی سہولیات کے بارے میں آگاہ کرنے کو بھی کہا تا کہ وہ اس سنٹر سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی پیداوار کی بہترین قیمت حاصل کر سکیں ۔ بعد میں مشیر بٹھناگر نے پامپور کے کئی زعفران علاقوں کا بھی دورہ کیا اور زعفران کے کھیتوں میں پھول چُننے کے کاموں کا موقع پر جائیزہ لیا ۔ دورے کے دوران مشیر نے کئی ترقی پسند زعفران کے کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ زعفران کے کاشتکاروں کے نمائندوں سے بات چیت کی اور زعفران کی صنعت سے متعلق ان کے مسائل اور شکایات سُنیں ۔ ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے کہا کہ موجودہ ایل جی کی انتظامیہ یہاں زعفران کی صنعت کی ترقی کیلئے پرعزم ہے اور حال ہی میں انتظامیہ کی کوششوں سے کشمیری زعفران کو جی آئی ٹیگ دیا گیا ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں اس کی قدر اور اہمیت میں اضافہ ہو گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے قائم کردہ آئی آئی کے ایس ٹی سی زعفران کے کاشتکاروں کو ان کی فصل سے پہلے اور بعد میں بہترین سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ انہیں ان کی پیداوار کی مارکیٹنگ لنکس فراہم کرے گا اور ان سے کہا گیا کہ وہ ان سے مستفید ہوں ۔ مشیر نے کاشتکاروں کو یقین دلایا کہ ان کے تمام حقیقی مسائل اور مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا ۔










