مشیر بٹھناگر نے جی ایم سی سرینگر میںدو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا افتتاح کیا
سرینگر / /لفٹینٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے گورنمنٹ میڈیکل کالج ( جی ایم سی ) میں ’ مصنوعی ذہانت اور سرجری اور طبی تحقیق میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کردار ‘ پر دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا افتتاح کیا ۔ ورکشاپ کا انعقاد شعبہ سرجری جی ایم سی سرینگر نے اوپن سورس ریسرچ ( او پی ایس او آر ای ) اور اسلامک یونیورسٹی آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی ( آئی یو ایس ٹی ) کشمیر کے اشتراک سے کیا ہے ۔ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور کی دنیا سے متعلق ہے اور یہ ایک قائم شدہ حقیقت ہے کہ تکنیکی ترقی کی آمد سے ہماری زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کا کردار بہت زیادہ بڑھ رہا ہے اور ہماری روز مرہ کی زندگی میں بہت سے پہلو اس سے مدد کرتے ہیں ۔ اے آئی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مختلف ایپلی کیشنز کے بارے میں بتاتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے کہا کہ ہم بحثیت قوم ڈیجٹائیزیشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور موجودہ دور کی تکنیکی مداخلتوں نے ہسپتال منیجمنٹ سسٹم کے ساتھ ساتھ مریضوں کی میڈیکل ریکارڈ کے ڈیٹا بیس کے قیام میں مدد کی ہے ۔ مشیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جموں و کشمیر کے شہریوں کی یونیورسل ہیلتھ کوریج نے نئے امکانات کھولے ہیں ۔ مشیر بٹھناگر نے مزید کہا کہ مختلف سماجی مسائل جیسے منشیات کا استعمال ، نفسیاتی امراض ڈپریشن اور دیگر متعلقہ مسائل کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ویب کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے ۔ کوششیں اور مضبوط طبی دیکھ بھال اور تحقیق اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔ ورکشاپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مشیر نے کہا کہ یہ ورکشاپ معلوماتی تبادلے کیلئے ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہو گا اور اے آئی اور آئی ٹی ٹیکنالوجی کی مدد سے میڈیکل سرجری اور طبی تحقیق کے میدان میں چھلانگ لگانے میں مدد کرے گا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی یو ایس ٹی کے وائس چانسلر پروفیسر شکیل اے رامشو نے کہا کہ ٹیکنالوجیز کی ترقی کے ساتھ ساتھ صحت کے شعور کیلئے ضروری ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو بنی نوع انسان کے فائدے کیلئے استعمال کریں ۔ اپنے خطاب میں پرنسپل جی ایم سی سرینگر ڈاکٹر سمیعہ راشد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میڈیکل سائینسز میں مستقبل کی ٹیکنالوجی بننے کیلئے تیار ہے کیونکہ اے آئی سرجری اور طبی تحقیق کی حرکیات کو بدل رہا ہے ۔ اس موقع پر او پی ایس او آر ای کے بانی پروفیسر علاء الحسنہ نے ورکشاپ کے مختلف اندازوں اور موجودہ دور کی طبی تحقیق کے حوالے سے اس ورکشاپ کے قابل عمل ہونے پر بات کی ۔ ورکشاپ کے افتتاحی سیشن میں بین الاقوامی طبی اداروں ، قومی اداروں جیسے آئی آئی ایس سی ، ایمس ، اپولو ، جی ایم سی سرینگر کے مختلف شعبوں کے ایچ او ڈیز ، طلباء اور طبی محققین نے شرکت کی ۔










