معروف شیعہ عالم و اعتدال پسندحریت لیڈر اوربزرگ سیاستدان مولانا عباس انصاری کاانتقال

آخری رسومات میں لوگوںکی بڑی تعدادشامل

سری نگر//حریت کے سابق چیئرمین اور ممتاز شیعہ رہنما مولانا عباس انصاری انتقال کرگئے۔اُن کی عمر86برس تھی اور مرحوم کافی وقت سے کافی علیل تھے ۔مرحوم مولانا عباس انصاری کی آخری رسومات میں لوگوںکی ایک بڑی تعدادنے شرکت کی ۔جے کے این ایس کے مطابق خاندانی ذرائع نے بتایا کہ حریت کے سابق چیئرمین اور کشمیر کے ممتاز شیعہ عالم مولانا عباس انصاری منگل کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ مولانا عباس انصاری، جو شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی وکالت کرنے والی تنظیم اتحاد المسلمین کے بانی بھی تھے، کا سری نگر میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال ہو گیا۔ مولانا عباس انصاری کے انتقال کی خبرپھیلتے ہی بڑی تعدادمیں لوگ مرحوم کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے ،تاکہ مرحوم کی آخری رسومات میں شرکت کرسکیں۔ شیعہ رہنما مولانا عباس انصاری ایک معتدل علیحدگی پسند آواز تھے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے حامی تھے۔2004 میں، جب مولانا عباس انصاری کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین تھے، انہوں نے 5رکنی وفد کی قیادت کی جس نے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے پہلی ملاقات کی۔ اس گروپ نے اس وقت کے نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کیساتھ بھی بات چیت کی۔ مولاناعباس انصاری کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں کے گروپ کا بھی ایک حصہ تھا جو سری نگر-مظفر آباد بس سروس کے ذریعے پاکستان کا سفر کرتا تھا۔مولاناعباس انصاری رائے شماری محاذ کے دور کے آخری زندہ رہنے والے سیاستدان تھے۔ انہوں نے کئی سیاسی جماعتوں کے اتحاد’ مسلم یونائیٹڈ فرنٹ ‘کے کنوینر کے طور پر بھی کام کیا۔اس اتحاد نے1987 کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس،کانگریس اتحاد کو چیلنج کیا تھا۔1987 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے بعد کشمیر میں مسلح تشدد کو ہوا دی گئی۔