سری نگر//جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس علی محمد ماگرے نے آج جموںاور سری نگر میں ہائی کورٹ کے نئے کمپلیکس کی تعمیر کے پروجیکٹوں سے وابستہ چیف آرکیٹیکٹ گونمیت ایس چوہان کے ساتھ ایک میٹنگ طلب کی۔میٹنگ میں جسٹس تاشی ربستان ، جسٹس سنجے دھر، جسٹس جاوید اِقبال وانی ، جسٹس موکشا کھجوریہ کاظمی ، جسٹس وسیم صادق نرگل اور جسٹس راجیش سکھر ی بھی موجود تھے۔چیف جسٹس نے سری نگر اور جموں میں نئے ہائی کورٹ کمپلیکس کی تعمیراتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔چیف آرکیٹیکٹ نے سری نگر میں جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے کانفرنس ہال میں مذکورہ پروجیکٹوں کے بارے میں ہائی کورٹ کے ججوں کی موجودگی میں چیف جسٹس کے سامنے ایک پرزنٹیشن پیش کی۔چیف جسٹس نے ان اہم پروجیکٹوں کی مناسب اور بروقت تکمیل پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالتوں کے بہتر کام کے لئے وکلاء اور قانونی چارہ جوئی کے لئے ساز گار اِنفراسٹرکچرل ماحول اور جمالیاتی ہونا ضروری ہے۔دورانِ پرزنٹیشن رجسٹرار جنرل سنجیو گپتا ، چیف جسٹس کے پرنسپل سیکرٹری راجیو گپتا ، رجسٹرار ویجی لنس شہزاد عظیم ، رجسٹرار ( جوڈیشل ) سری نگر ، جوائنٹ رجسٹرار ( جوڈیشل ) اور جوائنٹ رجسٹرار ( اِنسپکشن ) بھی موجود تھے۔اِس موقعہ پر چیف جسٹس نے جموںوکشمیر اور لداخ کے رجسٹرار جنرل ہائی کورٹ اور چیف آرکیٹیکٹ کو سری نگر او رجموں دونوں ہائی کورٹ کمپلیکس کی تعمیر و ترقی کے کاموں کو فوری طور پر مکمل کرنے کے لئے متعلقہ محکموں کے ساتھ تال میل قائم کرنے کی ہدایات دیں۔










