ڈاکٹر خالدمجسم باتومسلسل تیسر ے سال’نانوٹیکنالوجی‘میں دنیا کے اولین 2سائنسدانوں میں شامل
سری نگر//کہتے ہیں کہ جب کوئی بچہ یانوجوان زندگی کے کسی امتحان میں کامیاب یاسرخروہوجاتاہے تواُس کے والدین کاسرفخر سے بلندہوجاتاہے ،اوراگر والدین فوت ہوئے ہوں تواُن کی روح کوتسکین یا سکون ملتاہے ۔آج میں جس نوجوان کشمیری سائنسدان کی بات کرنے جارہاہوں ،اُس کی تربیت سازی اوررہنمائی میں اُسکے بڑے بھائی کاہاتھ ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق ڈی سی آفس بارہمولہ کے عقب اوردریائے جہلم کے کنارے پرواقع تاریخی اہمیت کے حامل محلہ دیوان باغ بارہمولہ سے تعلق رکھنے والا نوجوان سائنسدان ڈاکٹر خالدمجسم باتونے اپنی ابتدائی یابنیادی تعلیم نورالاسلام ( اسلامیہ ہائی اسکول)بارہمولہ سے حاصل کی ۔یہ ان دنوںکی بات ہے ،جب کشمیرمیں حالات کاکوئی بھروسہ نہیں رہتا تھاکہ کب بازار میں سناٹا چھا جائے اورکب اسکول کالج بند ہوجائیں ۔ڈاکٹر خالد مجسم باتو نے ان ہی حالات میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی ،اورپھر دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد انہوںنے گورنمنٹ ہائر اسکنڈری اسکول دیوان باغ بارہمولہ میں داخلہ لیا ۔یہاں سے بارہویں جماعت پاس کرنے بعدکل کے اس خاموش طبیعت و شریف نوجوان اورآج کے مشہور سائنسدان نے گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ میں داخلہ لیا۔ابتدائی تعلیم سے کالج پہنچنے تک ڈاکٹر خالد کی رہنمائی کرنے والے ان کے بڑے بھائی واجد احمد (جوخود ایک لیکچرارہیں) نے بتایاکہ خالد نے کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ،اورپھر ایم ایس سی کیلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے ۔انہوںنے کہاکہ اسی یونیورسٹی سے ڈاکٹر خالد نے ڈاکٹریٹ یعنیPHDمکمل کیا۔اپنے چھوٹے بھائی کی کامیابی اورعالمی سطح پرشہرت پر شادمان واجد احمد نے بتایاکہ مجھے اپنے چھوٹے بھائی پر فخر ہے ،میں انتہائی خوش ہوں،میری خوشی کاکوئی ٹھکانہ نہیں ۔انہوںنے بتایاکہ میںنے صرف چھوٹے بھائی کوصحیح راستہ دکھایا ،اورالحمداللہ ،وہ اسی راستے پر گامزن رہا،اورآج ہم سب اُس پر نازاں ہیں ۔2009میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے Nano-technology(اطلاقی علم کی وہ شاخ جو نانو میٹر سے کم فاصلے اور پیمائشوں سے تعلق رکھتی ہے)میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعدخالد مجسم کے نام کیساتھ ڈاکٹر بھی جڑ گیا۔انہوںنے ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعدبیرون ملک جانے کافیصلہ لیا۔ڈاکٹر خالد مجسم باتو سال 2010 سے سعودی عرب میں واقع کنگ سعودیونیورسٹی کے’کنگ عبداللہ انسٹی چیوٹ فار نیو ٹیکنالوجی‘میں بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر کے تعینات ہیں ۔ڈاکٹر خالد مجسم باتو کونیدرلینڈ نشیناکیڈمک پبلشنگ کمپنی Elsevierنے ایک مرتبہ پھردنیا کے ٹاپ2سائنسدانوںمیں شامل کیاہے جبکہ یہ ادارہ ڈاکٹر خالد کوگزشتہ تین برسوں سے مسلسل دنیا کے دوبہترین سائنسدانوں میں شمار کرتارہاہے ۔بہر حال آج بھلے ہی ڈاکٹر خالد مجسم باتواپنے آبائی محلے سے ہزاروں کلومیٹر دور ہولیکن اُسکی کامیابی اورعالمی شہرت وقبولیت پر پوری برادری نازاں ہے ۔مقامی محلہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری مشتاق حسین کرمانی کے بقول ہمیں ڈاکٹر خالد پر فخر ہے ،جہاں رہے خوش رہے ،آباد رہے ،سلامت رہے ۔اس نوجوان کشمیری سائنسدان کے رہنمااوربڑے بھائی واجداحمد کے یہ الفاظ بھی ناقابل فراموش ہیں کہ ہماری تربیت سازی میں ہمارے بزرگوںکاکلیدی رول رہاہے اورہمیں بھی چاہئے کہ ہم بغیر کسی تفریق کے اپنے گردونواح میں رہنے والے بچوںکی صحیح رہنمائی کاحق اداکرتے رہیں ۔










