2020 سے زیر التواء 2329 مقدمات زیر تفتیش،جرائم کے مرتکب ملزمان کیخلاف سزا سنانے کی شرح کم
سری نگر://جموں وکشمیرمیں احترام ِزن کاجذبہ زوال پذیر ہورہاہے ،کیونکہ خواتین کیخلاف مختلف نوعیت کے جرائم بشمول سسرال میں مارپیٹ ،جنسی وجسمانی زیادتی،استحصال،اغواکاری ،خودکشی پر مجبور کرنا،میں بتدریج اضافہ درج کیا جارہاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB)نے ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف جرائم میں گزشتہ برس 15.62 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس دوران تقریباً7000سے زیادہ ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا کہ سزا سنانے کی شرح کم رہی کیونکہ صرف 95 افراد کو سزائیں سنائی گئیں، جب کہ گزشتہ سال کے آخر تک زیر تفتیش مقدمات کی تعداد 6275 تک پہنچ گئی۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف جرائم میں گزشتہ سال 2020کے مقابلے 2021 میں15.62 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں 7000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر میں 64 لاکھ خواتین ہیں اور2021 میں فی لاکھ آبادی میں جرائم کی شرح 61.6 رہی۔جموں و کشمیر میں سال2019 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 3069 واقعات ریکارڈ کئے گئے تھے اور2020 میں خواتین مخالف جرائم کی تعداد بڑھ کر 3414 ہو گئی، اس طرح متعلقہ درج مقدمات میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق اس دوران سزا سنانے کی شرح کم رہی کیونکہ صرف 95 لوگوں یعنی ملزمان کو سزائیں دی گئیں، جب کہ گزشتہ سال کے آخر تک خواتین کیخلاف جرائم سے متعلق زیر تفتیش مقدمات کی تعداد 6275 تک پہنچ گئی۔ ان میں 2020 سے زیر التواء 2329 مقدمات اور تفتیش کے لیے دوبارہ کھولے گئے 9 مقدمات شامل ہیں۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں 2019 سے2021 تک مسلسل اضافہ ہوا، 2021 میں سب سے زیادہ 3937 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ 2020 میں یہ تعداد 3405 تھی،اوراسے پہلے سال2019 میں3069 خواتین کیخلاف جرائم اورزیادتیوں سے متعلق واقعات سامنے آئے۔










