بڈگام//جموںوکشمیر اَنرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی ) ، محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے آج کسانوں کو آبپاشی پمپ چلانے کے لئے سولر اَنرجی کے اِستعمال کے بارے میں ایک بیداری پروگرام کا اِنعقاد کیا۔یہ پروگرام ڈپٹی کمشنر آفس میں کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت کی صدارت میں منعقد ہوا۔بیداری پروگرام میں ڈپٹی کمشنر سیّد فخر الدین حامد ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر جے اے کے اِی ڈی ڈاکٹر پی آر دھر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جے اینڈ کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انوویشن کونسل ڈاکٹر ناصر احمد شاہ اور ایجنسی اور محکمہ باغبانی کے دیگر اَفسران نے بھی شرکت کی۔تقریب میں کسانوں کو پی ایم ۔ کے یو ایس یو ایم سکیم کے تحت مرکزی وزارتِ نئی اور قابل تجدید توانائی کی طرف سے سے بڑھائے جانے والے مختلف فوائد اور ترغیبات سے واقف کیا گیا جو بنیادی طور پر کسانوں کی ترقی کے لئے ہے ۔اِس سکیم سے کسانوں کو آبپاشی کے مقصد کے لئے 10ایچ پی صلاحیت تک سبسڈی والے سولر اَنرجی سے چلنے والے پمپس لگانے کی اِجازت ملتی ہے۔پی ایم ۔ کسم سکیم کے بڑے پیمانے پر دو اہم اجزأ ہیں ۔ جزو’’بی‘‘ کے تحت ڈیزل سے چلنے والے پمپوں کو سولر پمپ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے او رنئے پمپوں کو غیر گرڈ والے علاقوں میں بھی ڈی سینٹر لائزڈ ایپلی کیشن کے تحت نصب کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ جزو’’ سی ‘‘ کے تحت کسانوں کے ذریعہ بجلی کے پمپوں کو سولر اَنرجی سے چلنے والے پمپوں سے تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔دونوں زمروں کے تحت وزارتِ پمپ کی قیمت کا 50فیصد سبسڈی فراہم کرتی ہے ، 30فیصد لاگت جموں و کشمیر کی حکومت فراہم کررہی ہے او رفائدہ اُٹھانے والے کو پمپ کی صرف 20فیصد لاگت برداشت کرنی پڑتی ہے۔یہ سکیم آبی صارف ایسو سی ایشنز سے 10ایچ پی صلاحیت تک کلسٹر پر مبنی آبپاشی پمپوں کی تنصیب کی بھی اِجازت دیتی ہے۔اِس موقعہ پر بتایا گیا کہ بڈگام میں 500سولر پمپوں کا ابتدائی ہدف مختص کیا گیا تھا جس سے ضلع میں 14کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے ۔ جموںوکشمیر میں پی ایم کسم سکیم کے بہتر عمل آوری کی نگرانی کے لئے ضلعی سطح کی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔کمشنر سیکرٹری کو گرد کنیکٹیڈ روف ٹاپ سولر سکیم کے بارے میں مطلع کیا گیا جس کے تحت ڈِسکامز کے گھریلو صارفین کو 65فیصد کی اِجتماعی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ روف ٹاپ سولر پلانٹس کی تنصیب کے لئے ان کے بجلی کے بِلوں کو نیٹ میٹرنگ کے طریقہ کار کے تحت اَدا کیا جائے گا۔ڈاکٹر ناصر احمد شاہ نے کسان طبقے کو بااِختیار بنانے میں محکمہ کے کردار پر روشنی ڈالی ۔اُنہوں نے ضلعی اِنتظامیہ پر زور دیا کہ وہ لیوینڈر ، گلاب ، سالویہ جیسے خوشبودار اور اَدویاتی پودوں کی کاشت کے لئے ضلع میں 50سے 100 کنال یوٹی اَراضی فراہم کریں ۔ اُنہوں نے بتایا کہ جلد ہی بڈگام میں ضلعی سطح کے سائنس مراکز بھی قائم کئے جائیں گے۔










