تجویز حکومت کو پیش کر دی ہے،ایک یا 2 دن میں سرکاری احکامات متوقع:ناظم تعلیمات کشمیر
سر ینگر//سیکنڈری اسکول سطح کے سالانہ امتحانات کواگلے سال مارچ اپریل میں کرائے جانے کافیصلہ لینے کے بعد کشمیر وادی میں اول سے نویں جماعت تک زیرتعلیم لاکھوں طلباء و طالبات کے سالانہ امتحانات کافیصلہ التواء میں پڑا ہوا تھا ،لیکن اب حکام نے جمعرات کویہ واضح کیاکہ اول سے نویں جماعت کے ٹرم 2یعنی سالانہ امتحانات ممکنہ طورپر اگلے سال مارچ میں لئے جائیں گے ۔جے کے این ایس کے مطابق ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر تصدق حسین میر نے ایس کے آئی سی سی میں منعقد ہ ایک تقریب کے حاشیے پرنامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ کشمیروادی میں اول یعنی پرائمری سے نویں جماعت کے ٹرم 2یعنی سالانہ امتحانات ممکنہ طورپر اگلے سال مارچ میں لئے جائیں گے ۔ناظم تعلیم کشمیرکاکہناتھاکہ محکمہ اسکولی تعلیم کشمیرکی جانب سے اس حوالے سے حکومت کوایک تجویز پیش کردی گئی ہے اوراس بات کاامکان ہے کہ حکومت اس تجویز کی روشنی میںاگلے ایک یادوروزمیں احکامات جاری کرے گی۔ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیرکاکہناتھاکہ ’ہم نے اپنی تجویز حکومت کو پیش کر دی ہے اور ہمیں ایک یا 2 دن کے اندر سرکاری احکامات کی توقع ہے۔ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر تصدق حسین میر نے ایک سوال کے جواب میں نامہ نگاروںکوبتایاکہ موسم بہتر رہنے کی صورت میں امسال ماہ دسمبر کے آخرتک کشمیر میں قائم اسکولوںمیں سرمائی تعطیلات نہیں ہونگی ۔انہوںنے پھر کہاکہ اول سے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات اگلے سال مارچ میں ہوں گے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے پہلے ہی دسویں ،گیارہویں اوربارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات مارچ اپریل2023میں منعقد کرانے کااعلان کیا۔پرائمری اورمڈل کلاسز کے سالانہ امتحانات مارچ 2023میں لینے کی صورت میں کشمیر وادی میں تعلیمی سیشن کے خدوخال بدل جائیں گے ۔اس دوران معلوم ہواکہ اول سے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات منعقد کئے جانے سے متعلق حتمی فیصلے کااطلاق جموں صوبہ کے سرمائی زون والے علاقوںمیں بھی ہوگا،کیونکہ وہاں بھی کشمیرکی طرح بچوں کے سالانہ امتحانات اکتوبر نومبر میں لئے جاتے ہیں۔










