amit shah in rajouri

جموں و کشمیر ’سب سے زیادہ محفوظ جگہ‘

امسال ایک کروڑ62لاکھ سیاحوںکی آمد بدلتی صورتحال کی علامت:مرکزی وزیرداخلہ

راجوری //مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے جموں وکشمیر کی سیکورٹی صورتحال کو3سال قبل سے کہیں زیادہ بہتر قرار دیتے ہوئے منگل کوکہاکہ 2019 کے بعد سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکتوں اورملی ٹنسی کے واقعات سب سے کم ہیں۔انہوںنے یہ بھی کہاکہ جموں وکشمیرمیں جمہوریت87ارکان اسمبلی اور6ارکان پارلیمان تک محدود تھی لیکن اب جمہوریت نچلی سطح پر بھی پہنچ گئی ہے ۔مرکزی وزیرداخلہ نے کہاکہ3 خاندانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے مرکزی فنڈز لوٹ لئے ۔جے کے این ایس کے مطابق اپنے تین روزہ دورے کے دوسرے دن ماتاویشنو دیوی مندرمیں حاضری دینے کے بعدمرکزی وزیرداخلہ امت شاہ راجوری پہنچے ،جہاں ہزاروںلوگوںنے اُن کاوالہانہ اندازمیں استقبال کیا۔امت شاہ نے عوامی جم غفیر کاہاتھ ہلاہلاکر جواب دیا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا ،وزیراعظم آفس میں تعینات مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹر جتیندرا سنگھ کے علاوہ ایم پی جوگل کشورکی موجودگی میں عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، جموں و کشمیر ’سب سے زیادہ محفوظ جگہ‘کے طور پر ابھرا ہے کیونکہ ملی ٹنسی سے متعلق واقعات اب تک کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ملی ٹنٹوں کے خلاف شروع کی گئی مسلسل مہم کے مثبت نتائج ہمارے سامنے ہیں۔امت شاہ نے کہاکہ حریت نے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار اور پتھردئیے تھے لیکن وزیراعظم نے نوجوانوں کے ہاتھوںمیں کتابیں اور لیپ ٹاپ دئیے۔مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر آرٹیکل370 کو واپس لیا گیا تو خون بہے گا، انہیں اعداد و شمار کے ذریعے جاننا چاہئے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ تین برسوںکے دوران ملی ٹنٹ سرگرمیوں ،حملوں اورہلاکتوںمیں نمایاں کمی آئی ہے ۔مرکزی وزیرداخلہ کاکہناتھاکہ جموں وکشمیر میں سالانہ4767ملی ٹنسی کے واقعات رونماہوتے تھے لیکن 370کی منسوخی کے بعدیہ اعدادوشمار سالانہ صرف721ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک سال میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعدادسالانہ1200سے صرف 136 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ اب تک کی سب سے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ملی ٹنٹوں، علیحدگی پسندوں اور حریت کو کچلنے کے لئے شروع کی گئی مسلسل مہم کے اچھے نتائج برآمد ہوئے،اوریہی وجہ ہے کہ آج، جموں و کشمیر ایک انتہائی محفوظ جگہ ہے۔امت شاہ نے کہاکہ وزیراعظم مودی جموں و کشمیر کے نوجوانوں تک پہنچے اور پتھروں کی جگہ لیپ ٹاپ لے گئے۔ انہوں نے کہاکہ آج جموں و کشمیر کے نوجوان مختلف شعبوں میں ملک کے دیگر نوجوانوں کی طرح مقابلہ کر رہے ہیں۔گجروں، بکروالوں اور پہاڑیوںکے مسائل ومشکلات کاذکر کرتے ہوئے، امت شاہ نے ان پسماندہ طبقوںسے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تین خاندان، جنہوں نے حکومت کو ان تک محدود رکھا، ان کے خاندان کے افراد اور دوستوں کو ہر الیکشن میں شکست دی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ان تینوں خاندانوں نے 70 سال تک خاندانی حکمرانی کا لطف اٹھایا اور عام آدمی کو جمہوریت کیلئے ترستے رہے۔مرکزی وزیرداخلہ نے کہاکہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، دلتوں، پسماندہ اور پہاڑیوں میں رہنے والوں کو ریزرویشن کا فائدہ دیا جا رہا ہے۔انہوںنے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگر آرٹیکل370 اور 35A کو نہ ہٹایا جاتا تو کیا قبائلیوں کو ریزرویشن ملنا ممکن تھا؟ ۔انہوںنے کہاکہ اب ان کے ہٹانے سے اقلیتوں، دلتوں، قبائلیوں اور پہاڑیوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔ مرکزی وزیر امت شاہ نے کہاکہ وزیر اعظم پہاڑی، گجر اور بکروال برادریوں کیلئے ریزرویشن کے حق میں ہیں۔انہوںنے مزیدکہاکہ جموں و کشمیر370 کی منسوخی کے بعد ریزرویشن کے لئے عمل کو صاف کر دیا گیا ہے۔ جسٹس شرما کے کمیشن نے رپورٹ بھیجی ہے اور گجر، بکروال اور پہاڑی برادریوں کے لئے ریزرویشن کی سفارش کی ہے اور اسے جلد ہی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج لوگوں کے پاس گرام پنچایت، ضلع پنچایت اور تحصیل پنچایت ہے، جو گزشتہ 70 سالوں میں نہیں ہوئی تھی۔امت شاہ نے کہاکہ سترسال تک راج کرنے والوںنے گجروں،بکروالوں اورپہاڑیوںکااستحصال کیا لیکن راجیہ سبھا میں غلام نبی کھٹانہ کو نامزد کرکے مودی جی نے ثابت کیا کہ وہ تمام طبقات کو مناسب نمائندگی دینے کے پابند ہیں۔مرکزی وزیرداخلہ نے کہا کہ آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد، جموں و کشمیرمیں بیرونی سرمایہ کاری 56000کروڑروپے تک پہنچ گئی ہے جو بالآخر نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کرپشن کے خاتمے کے لئے اینٹی کرپشن بیورو تشکیل دیا جو کہ تین خاندانوں کی خاندانی حکمرانی کی وجہ سے گزشتہ70 سالوں میں سرفہرست رہی۔انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن گجروں، بکروالوں اور پہاڑیوں کو مناسب نمائندگی دینے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا جو کہ ایک خواب تھا۔ امت شاہ نے کہاکہ آپ کا ہمیشہ ان لوگوں کے ذریعہ استحصال کیا گیا جنہوں نے آپ پر حکمرانی کی۔امت شاہ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر تعطیل کا اعلان کرنے پر لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار سری نگر سے شارجہ کیلئے براہ راست پرواز شروع کی گئی اور سری نگر میں رات کی فلائٹ آپریشن بتائی گئی۔انہوںنے کہاکہ تاریخ میں پہلی بار، جنوری 2022 سے ابتک ایک کروڑ62لاکھ سیاحوں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔