dried vegitables

کشمیرمیں سوکھی سبزیوں’ہوکھ سیون‘ کو استعمال کرنے کی قدیم روایت بر قرار

دیہی خواتین کی سبزیاں سکھانے میں ہنوز دلچسپی ،شہروقصبہ جات کی خواتین سہل پسند

سری نگر//سوکھی سبزیاں،جن کو کشمیری میں’ہوکھ سیون‘‘ بھی کہا جاتا ہے، موسم سرما میں ریکارڈ توڑ سردی اور اور برف باری کے دوران یہاں کے مقامی لوگ ان سبزیوں کو خوب استعمال میں لایاکرتے تھے لیکن حالیہ کچھ دہائیوںیابرسوں سے اس روایت میں کافی کمی دیکھی گئی ۔جے کے این ایس کے مطابق گائوں دیہات میں خواتین آج بھی موسم گرمامیں سبزیاں سکھاتی نظرآتی ہیں لیکن شہر سری نگر اور قصبہ جات میں یہ روایت دم توڑتی نظرآرہی ہے ۔ وادی کشمیر میں ہر برس موسم سرما کے شروع ہوتے ہی سوکھی سبزیاں دستر خوان کی زینت بن جاتی ہیں لیکن سال نو اور چلہ کلان کی سخت ترین سردی اور برفباری کے ایام کے دوران سوکھی سبزیوں اور دالوں کی مانگ میں اضافہ دیکھنے کو مل جاتاہے۔چلہ کلان میں سوکھی سبزیاں استعمال کرنے کی قدیم روایت گائوںدیہات اوردرازکے علاقوںمیں بر قرارہے ،کیونکہ ماہ دسمبرکے آخر یاماہ جنوری کے اوائل میں بھاری برف باری ہوتے ہی دوردرازکے دیہات وعلاقوںکانزدیکی قصبہ جات سے سڑک رابطہ منقطع ہوجاتاہے اوران ایام میں لوگ سوکھی سبزیاں استعمال کرتے ہیں ۔کشمیر میںبرف باری سے پیدا شدہ صورتحال کے نتیجے میں سوکھی سبزیوں جیسے ساگ،پالک،کدو،بیگن،شلغم ،ٹماٹر اور سوکھی مچھلیوں وغیرہ کااستعمال اوران کی خریداری میں اضافہ ہوجاتاہے۔موسم سرماکے سخت ترین ایام میں،جب تازہ سبزیاں دستیاب نہیں ہوتی ہیں تو ایسے میںلوگ سوکھی سبزیاں جیسے الہ ہچہ،وانگن ہچہ ،گوگجہ ہچہ،ٹماٹر ہچہ اور ہوچھہ گاڈ یعنی خوشک مچھلیاں وغیرہ خریدنے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں۔سردی کے ایام میں کشمیرمیں روایتی طور پر بھونی ہوئی مچھلیاںشہر سرینگر کے مہاراجہ بازار، بٹہ مالو،زینہ کدل ،بہوری کدل،صفا کدل اور دیگر بازاروں میں ان سبزیوں کی کافی خریدو فروخت دیکھنے کو ملتی ہے۔سوکھی سبزیوں اور دالوں کا کاروبار کرنے والے تاجر کہتے ہیں کہ موسم سرما کے دوران’ہوکھ سون ‘استعمال کرنے کی روایت ابھی برقرار ہے گرچہ اس میں کسی حدتک کمی آئی ہے۔ متعلقہ تاجرکہتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ کشمیر کے مقامی لوگ سوکھی سبزیوں کو خریدتے ہیں بلکہ لداخ اور جموں میں بھی ان کو برآمد کیا جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ وادی کشمیر میں گزشتہ چند برس سے طبی ماہرین کے انتباہ کے پیش نظر خوشک سبزیوں کی خریدوفروخت میں قدرے کمی واقع ہوئی تھی،لیکن موسم سرمامیں آئے دنوں سری نگرجموں قومی شاہراہ اوراہم رابطہ سڑکیں بندہوجانے پر لوگوں کے پاس سوکھی سبزیوں کے استعمال کے بغیر کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں رہتاہے۔خشک سبزیوںکاکاروبار کرنے والے تاجر کہتے ہیں کہ اگر سبزیوںکومعقول اندازمیں احتیاط کیساتھ کسی صاف برتن یاکپڑے پر رکھ کرسکھایاجائے تواس میں کوئی خطرہ نہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ابھی بھی گائوں دیہات سے ہی سوکھی سبزیاں لیکر لوگ ان کوقصبوں اورسری نگرمیں فروخت کرنے کیلئے آتے ہیں ،اورجانکار تاجر ان سبزیوںکومعیار کی بنیاد پر ہی خریدکر ان کاکاروبار کرتے ہیں ۔