سیاحوں کی توجہ کامرکز،فوٹو کھنچوانے اورسیلفیاں بنانے میں مصروف
سری نگر//کشمیروادی میں موسم بہار عملاًختم ہوگیاہے اوراب وادی میں موسم خزاںکی آمد آمد ہے ۔درختوںکے پتے گررہے ہیں اورباغات میں کلیوں کیساتھ ساتھ پھول بھی اب مرجھا رہے ہیں ،لیکن ایک جگہ ہے ،جہاں موسم خزاں کے سایے میں بہار کاسماں ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق مشہور زمانہ جھیل ڈل کے اندرہزاروںکی تعدادمیں کنول کے پھول کھلے ہوئے ہیں ،جنہوں نے یہاں کے منظرکوپُرکشش بنادیا ہے ۔اندرون ڈل کنول کے تیرتے باغوںمیں کنول کے تیرتے پھول سبھی کواپنی جانب متوجہ کراتے ہیں ۔کنول کے کھلے پھولوںنے جھیل ڈل کی خوبصورتی کوچار چاند لگادیاہے اوریہاںموجود ہائوس بوٹوںمیں مقیم سیاح بھی ان کنول کے پھولوںکودیکھنے کیلئے شکاروںمیں سوار ہوکر کنول کے باغوںکانظارہ کررہے ہیں ۔کچھ سیاحوںکوکہتے سنا گیاکہ ہم فلمی نغمہ باغوںمیں بہار ہے ،کلیوںپے نکھار ہے ،کوسنا اوردیکھا بھی ہے لیکن آج ہم پہلی بار پانی میں بہار کودیکھ رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ قدرت کاایک عجوبہ ہے کہ پانی کے ایک بڑے ذخیرے جھیل ڈل کے اندر تیرتے باغ موجود ہیں ،جہاں ایک ایسا پھول’کنول‘کھلتاہے ،جو بھارت کاقومی پھول کہلاتاہے ۔شکارہ والوں اورہائوس بوٹ مالکان کاکہناہے کہ جھیل ڈل میں ٹھہرنے والے اوریہاںکانظارہ کرنے والے سیاح پوچھتے ہیں کہ کیا کنول کھل گئے ہیں ،اورجب ہم اُنھیں ڈل کے پانی پرتیرتے کنول کے باغ دکھانے لے جاتے ہیں تووہ یہاں کنول کے کھلے پھول دیکھ کر کافی خوش اورمحظوظ بھی ہوتے ہیں ،اورشکاروںمیں بیٹھ کر کنول کے پس منظرمیں فوٹو کھینچواتے ہیں اورسیلفیاں بھی بنواتے ہیں ۔










