سرینگر//دارالحکومت دہلی میں تہاڑ جیل کے جس قیدی کے پیٹ میں موبائل ہونے کی خبر شائع ہوئی تھی۔اس قید ی کے پیٹ میںڈاکٹروں کوپانچ موبائل فون ہونے کی معلومات ملی تھی ۔ معائنے کے بعد ڈاکٹروں کو اس کے پیٹ میں دو اور نامعلوم چیزیں ملی جو موبائل فون ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے قیدی کو کچھ دنوں بعد دوبارہ اسپتال میں داخل کرنا پڑے گا۔ جہاں تفتیش کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ یہ دونوں نامعلوم اشیاء موبائل فون ہیں یا کچھ اور۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق تہاڑ جیل کے ڈی جی سندیپ گوئل نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کو مذکورہ قیدی کے پیٹ سے دو موبائل فون نکالے گئے تھے۔ قیدی کی حالت ٹھیک ہے۔ اسے زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ 29 اگست کو قیدی کو پہلے جانچ کے لیے ڈی ڈی یو اسپتال لے جایا گیا۔ لیکن وہاں ڈاکٹر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ اس کے پیٹ میں کیا تھا۔ اسے جی بی پنت اسپتال ریفر کیا گیا تھا۔ یکم ستمبر کو قیدی کو جی بی پنت اسپتال لے جایا گیا۔ لیکن اس دن بھی ان کے پیٹ میں موبائل فون کی موجودگی کے حوالے سے تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں۔اس کے بعد قیدی کو دوبارہ تہاڑ جیل سے جی بی پنت لے جایا گیا۔ جہاں بدھ کو اینڈو سکوپی کے بعد اس کے پیٹ سے دو موبائل نکالے گئے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ فون قیدی کے منہ سے نکالے گئے تھے۔ قیدی کے پیٹ کا معائنہ کرنے پر ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ اس کے پیٹ میں موبائل فون زیادہ ہیں۔لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکاہے کہ یہ موبائل فونز ہیں یا کچھ اور۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قیدی تہاڑ جیل میں بند ہے۔ اس کے خلاف چوری اور قتل کا مقدمہ بھی درج ہے۔ قیدی نے چند روز قبل جیل حکام کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پیٹ میں ایک یا دو نہیں بلکہ پانچ موبائل فون ہیں۔ جسے اس نے نگل لیا تھا۔ لیکن اب وہ فون نہیں بج رہا ہے۔ ابتدائی طور پر جیل حکام کو قیدی کی باتوں پر یقین نہیں آیا۔ لیکن درمیان میں ایک بار جب قیدی کے پیٹ میں درد ہوا تو اس کی تحقیق کی گئی۔ جس میں چار پانچ ایسی تصاویر سامنے آئیں، جو موبائل فون کی ہو سکتی تھیں۔ لیکن اس وقت اس کے پیٹ سے کچھ نہیں نکلا تھا۔ اس کے بعد جیل انتظامیہ نے قیدی کی صحت کو دیکھتے ہوئے اسے ڈی ڈی یو اسپتال میں داخل کرایا۔ لیکن وہاں ڈاکٹروں کو قیدی کے پیٹ میں موبائل فون اور اسے نکالنے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ اس کے بعد قیدی کو ڈی ڈی یو سے جی بی پنت اسپتال ریفر کیا گیا۔ جہاں بدھ کو قیدی کے پیٹ سے دو موبائل فون نکالے گئے ہیں۔ یہ چھوٹے سائز کے کیپیڈ فونز ہیں۔ جن کے اوپر پلاسٹک کی لیمینیشن ہے۔ اب اس معاملے میں اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ قیدی کے پیٹ میں یہ فون کب سے تھے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ قیدی کے پیٹ میں بلیڈ یا کوئی اور چیز بھی ملی ہو۔ کیونکہ جب بھی میٹل ڈیٹیکٹر سے قیدی کا معائنہ کیا گیا تو قیدی کے پیٹ کے قریب میٹل ڈیٹیکٹر نے بہت تیز اور لمبی آواز نکالی۔ جس کی وجہ سے جیل حکام کو شبہ ہوا کہ قیدی کے پیٹ میں موبائل فون یا کوئی اور ممنوعہ چیز ہے۔ فی الحال قیدی کی حالت مستحکم ہے۔ اس کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔










