جموں وکشمیر میں لکڑی پر مبنی صنعتوں کے فروغ پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد

جموں// سوشل فارسٹری محکمہ جموںوکشمیر نے شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( سکاسٹ ) جموں کے اشتراک سے جموں اور کشمیر خطے میں لکڑی پر مبنی صنعتوں کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے شراکت داروں کے درمیان مشاورت کی سہولیت فراہم کرنے کے لئے آج ایک روزہ ورکشاپ کا اِنعقاد کیا۔کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات محکمہ سنجیو ورما نے ایک روزہ پروگرام کی صدارت کی۔اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری نے بات کرتے ہوئے اِس پہل کی تعریف کی جو جموںو کشمیر یوٹی میں لکڑی پر مبنی صنعتوں کی ترقی کو فروغ دینے میں علاقوں اور چیلنجوں کی نشاندہی کرنے میں بہت آگے جاسکتا ہے۔اُنہوں نے جموںوکشمیر یوٹی میں لکڑی پر مبنی صنعتوں کی دیرپا ترقی کے لئے کسانوں ، صنعتوں اور تحقیقی اِداروں کے درمیان اِدارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر سکاسٹ جموں ڈاکٹر جے پی شرما نے تنوع ، زرعی مصنوعات کی قدر میں اضافے اور ثانوی زراعت کو اَپنانے پر زو ردیا۔اُنہوں نے ضلع کے دیہی نوجوانوں کی کاروباری ترقی پر توجہ دینے کا مشورہ بھی دیا۔اُنہوں نے سائنس دانوں کو سوشل فارسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر پروجیکٹوں پر کام کرنے کا مشورہ دیا اور سکاسٹ جموں کے کے وِی کے ایس پروگرام میں محکمہ جنگلات کے اَفسران کی شرکت پر زور دیا۔کنڈی علاقوں میں جنگلاتی درخت او ردوائوں کے پھلوں کی بے پناہ صلاحیت ہے اور یہ متبادل ذرائع آمدنی کے طور پر قابل عمل ہیں۔پی سی سی ایف اور ایچ او ایف جے اینڈ کے محکمہ جنگلات ڈاکٹر موہت گیرا نے کہا کہ فارم فارسٹری میں زمین کی پیداوار ی سطح کو بہتر بنانے اور کسانوں کو منافع میں اِضافہ کرنے کی صلاحیت ہے۔قدرتی جنگلات میں گرین فیلنگ پر پابندی کے نفاذ کے بعد لکڑی پر مبنی صنعتوں کے لئے غیر جنگلاتی اَراضی بشمول نجی کھیت کی زمینوں پر درخت لگانا خام مال کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ جموںوکشمیر میں تقریباً 164 پلائیو وڈ اِنڈسٹریز فی الحال کام کر رہی ہے جن کے لئے اَچھے معیار کے خام مال کی مسلسل فراہمی کی ضرورت ہے ۔ اِس وقت تقریباً 80 لاکھ مکعب فٹ لکڑی جموںوکشمیر اَپنی گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لئے درآمد کرتی ہے ۔ اِس لئے مانگ اور سپلائی کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لئے لکڑی کی مناسب اَنواع کی پیداوار کو بڑھانے کی ایک اہم ضرورت ہے۔زرعی جنگلات میں روزگار کے مواقع پید اکرنے ، کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے جیسا کہ ہریانہ ، پنجاب او رمغربی یوپی رِیاستوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔پی سی سی ایف ڈائریکٹر سوشل فارسٹری محکمہ جموںوکشمیر روشن جگی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چار دہائیوں میں سوشل فارسٹری محکمہ نے جنگلاتی علاقوں سے باہر درختوں کی کاشت کاری کی ثقافت کو قائم کرنے میں کلیدی کردار اَدا کیا ہے جو لکڑی پر مبنی صنعتی یونٹوں جیسے پلائیوووڈ ، پلائی بورڈ ، کرکٹ بیٹس ، پنسل ، جوائنری اور دیگر متعلقہ شعبوں کے لئے خام مال کا بڑا ذریعہ رہے ہیں۔لکڑی پر مبنی صنعتوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لئے محکمہ سماجی جنگلات ترقی پسند کسانوں اور کاشت کاروں کو زرعی جنگلات کی اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے جدید ماڈلوں کو اَپنانے میں شامل کرنے کے لئے اَقدامات کر رہا ہے جو اِقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے، ماحولیاتی فوائد اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔شرکا ء کو فارسٹ ریسر چ اِنسٹی چیوٹ دہرادون ، ہمالین فارسٹ ریسر چ اِنسٹی چیوٹ ، سکاسٹ جموں اور کشمیر اور جموں خطہ میں مقیم لکڑی پر مبنی مختلف صنعتوں کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا۔دِن بھر کی بحث کے دوران ترقی پسند کسانوں ، کاشت کاروں او رصنعت کے ممکنہ ڈیویلپروں کی بڑی تعداد نے گہری دِلچسپی دِکھائی۔کاشت کاروں کے لئے معیاری پودے لگانے کے مواد کی دستیابی ، زرعی جنگلات کے معاشی عمل کو بڑھانے کے لئے پودوں کی انواع کے مناسب پیداواری صلاحیت میں اضافہ او رکاشت کاروں کے لئے منڈی کی سہولیات کی فراہمی جیسے مختلف اَمور پر غور کیا گیا او رشراکت داروں کے اِن پٹ کی بنیاد پر سفارشات پیش کی گئیں۔