budget kashmir

لیفٹیننٹ گورنر کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز ‘‘ کا ایک سال مکمل

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے معاشرے کے ہر طبق کی اُمنگوں کو پورا کرنے کی خاطر شراکت دار ترقیاتی عمل میں ان کے گراں قدر تعاون کے لئے تمام شہریوں کا شکراَدا کیا۔لیفٹیننٹ گورنر کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز ‘‘ کا ایک برس مکمل ہوا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ عوامی شرکت کے لئے یہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز‘‘نچلی سطح پر جن بھاگیداری کو مضبوط کرنے ، جواب دہ ، شفاف ، مؤثر ، مساوی اور جامع حکومت قائم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔’’ عوام کی آواز‘‘ پروگرام سے جو جموںوکشمیر میں آل اِنڈیا ریڈیو کے تمام مقامی اور بنیادی چینلوں اور ڈی ڈی کاشر پر نشر کیا جارہا ہے،ہمیں صحت ، تعلیم ، دیہی ۔ شہری ترقی ، ثقافتی، بحالی اور متوازن علاقائی وغیرہ شعبوں میں اِصلاحات کے لئے متعدد تجاویز موصول ہوئی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اِنتظامیہ نے کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرنے اور نظام کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانے کے لئے سامعین موصول ہونے والی تجاویز پر ٹھوس اِقدامات کئے ہیں ۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ میں جموںوکشمیر آل اِنڈیا ریڈیواور دُور درشن کی مسلسل حمایت کے لئے ان کا شکریہ اَدا کرتا ہوں۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس مہینے کے قسط میں جموںسے تعلق رکھنے والی سندھیا دھرم ، کولگام کی ناصرہ اَختراور سری نگر کی ڈاکٹر نشیمن اشرف کا خصوصی ذکر کیا جو جموںوکشمیر کی خواتین کے لئے نئے دُور کی علامت بن کر اُبھری ہیں ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان کی کامیابیاں ان خواتین کو ایک نظریہ دیتی ہیں جو حوصلہ اَفزائی کی خواہش رکھتی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے آر ایس پورہ جموں کی شردھا شرما اور اننت ناگ کے ذاکر حسین بٹ کی زرعی شعبے میں خواتین کاروباریوں کو بااِختیار بنانے اور تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے بارے میں تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے وقف اِقدامات کو عملانے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ جب خواتین معاشی طور پر خوشحال ہوں گی تو ان کے بالواسطہ اور بلاواسطہ فوائد کنبے ، معاشرے ، قوم اور پوری اِنسانیت کو پہنچیں گے ۔ گذشتہ دو برسوں میں جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے خواتین اَفراد کو روزی روٹی کے مزید مواقع فراہم کرنے کی خاطر کئی مہمات شروع کی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہا زراعت اور دیہی صنعتوں میں خواتین کا روباریوں کی شرکت بڑھانے کے لئے اُمید پروگرام کے تحت تقریباً 5لاکھ خواتین کو شامل کیا گیا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ کرشی سخی اور پشو سخی جیسے مختلف پروگرام شروع کئے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین زراعت ، باغبانی اور ڈیری شعبوں میں آگے آئیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کولگام سے سجاد نور آباد کی جانب سے موصولہ تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت کی فلاحی سکیموں کے بارے میں بیداری مہم کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہربدھ کو منعقد کئے جانے والے بلاک دیوس پروگرام کا بنیادی مقصد اِنتظامیہ کو لوگوں کی دہلیز تک پہنچانا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ عام شہریوں کے مسائل کے فوری ازالے سے عوام کو مختلف سرکاری سکیموں بارے میں بھی آگاہ کیا جائے۔
منوج سِنہا نے جموں سے ڈاکٹر شلپی شرما اور ڈاکٹر انکوربٹ سے صحت دیکھ ریکھ کی ڈیجیٹلائزیشن کے لئے تفصیلی روڈ میپ کے بارے میں حاصل کردہ تجویز کا ذکر کرتے ہوئے لوگوں کو جدید صحت دیکھ ریکھ فراہم کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے متعارف کی گئی مختلف اِصلاحات پر زور دیا۔اُنہوں نے آن لائن اپائنٹمنٹ کے لئے سکمز میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کا بھی ذکر کیا ہے جسے جلدہی دوسرے ہسپتالوں میں بھی بڑھا دیا جائے گا۔ گذشتہ مہینے سے جموںو کشمیر میں ڈیجیٹل خدمات کی توسیع کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے کئی اہم اہم فیصلے لئے ہیں ۔ وزیر اعظم کے ڈیجیٹل ہیلتھ مشن کے تحت ہم مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنے کے علاوہ آن لائن اپائنٹمنٹ کی سہولیت پیدا کرنے کا اِرادہ رکھتے ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ تمام ہسپتالوں میں آن لائن اپائنٹمنٹ اور ہیلتھ سروسز کی ڈیجیٹائزیشن مشن موڈ میں کی جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے بزرگ شہریوں کی بہبود سے متعلقہ پلوامہ سے غازی احمد پنڈت اور سانبہ سے راہل کمار کی تجاویز پر کہا کہ اپریل 2020ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک نیشنل ایکشن پلان کو منظوری دی گئی تھی تاکہ بزرگ شہریوں کو عز ت کے ساتھ زندگی گزار نے کے لئے موقع فراہم کیا جاسکے ۔ زیر اعظم نے 5؍ اگست 2019ء کے بعد جموںوکشمیر میں مینٹی ننس اینڈ ویلفیئر آف پیر نٹس اینڈ سینٹر سٹیزنز ایکٹ بھی لاگو کیاہے جسے جموںوکشمیر میں تقریباً12برسوں سے لاگونہیں کیا گیا تھا۔ گذشتہ برس ہم نے مختلف سکیموں کے تحت غریب اور بزرگ شہریوں سمیت کل نو لاکھ لوگوں کوپنشن فراہم کی ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ میں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی رضاکار آرگنائزیشنوں کو حکومت کی طرف سے ہر طرح کی حمایت کا بھی یقین دِلاتا ہوں۔
گاندربل سے عبدالرشید بٹ نے جموںوکشمیر میں ایک ماحولیات ، ثقافتی اور آثارِقدیمہ کے تحقیقی مرکز ( اِی سی اے آر سی ) کے قیام کے حوالے سے ایک خط لکھا جو نوجوانوں کے ساتھ مشغول ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَچھے اِنتظامی طریقوں کے نتیجے میں زمینی سطح پر ہونے والی تبدیلی پر بھی روشنی ڈالی۔اُنہوں نے کہا کہ بڈگام کے کانی ہامہ گائوں جو اَپنی کانی شالوں کے لئے مشہور ہے کو کرافٹ ٹورازم وِلیج میں ترقی دینے کا منصوبہ اَب اَپنے آخری مراحل میں ہے ۔نیز دودھ پتھری میں سستی رہائش فراہم کرنے کی سکیم جو کئی برسوں سے زیر اِلتوأ تھی مکمل ہوگئی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے پنچایتوں میں پیش رفت کو ٹریک کرنے کے لئے اِختراعی ڈیجیٹل اِنٹرونشن کے لئے ضلع اِنتظامیہ بانڈی پورہ کی بھی تعریف کی ۔ ضلع نے پنچایت ترقیاتی اِنڈکس شروع کرنے میں برتری حاصل کی جو ہر پنچایت کو ان کی کارکردگی کی بنیادپر درجہ بندی کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ قمروای سری نگر کے کسانوں نے منڈی سے رابطہ قائم کرنے کے بعد اَپنی آمدنی میں کئی گنا اِضافہ دیکھا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ضلع اِنتظامیہ سبزیوں کی کاشت کو فروغ دینے کے لئے ٹینگہ پورہ بلاک میں ایک کسان پیداواری تنظیم بھی قائم کر رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ ہر ضلع کو دوسرے اَضلاع کے اَچھے طریقوں کو نقل کرنا چاہیئے اورلوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ٹھوس کوششیں کرنی چاہئیں۔