پرائیویٹ سکولوں نے اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے والدین کی راحت کیلئے کلو میٹر کے حساب سے ریٹ مقرر کی
سرینگر// سکولوں انتظامیہ اور والدین کے درمیان گاڑیوں کے کرایہ کے معاملے پر گزشتہ تین برسوں سے چلی آرہی رسہ کشی کو ختم کرتے ہوئے سکول ایسوسی ایشن نے بچوں کو لانے اور لے جانے کیلئے گاڑیوں کی کرایہ کلو میٹر کے حساب سے ریٹ مقرر کی ہے تاکہ ٹیوشن فیس اور بس فیر اعلیٰحدہ رہے جس سے والدین اور سکول انتظامیہ کے درمیان آگے کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کووڈ 19کے پیش نظر سکول بند رہنے کے بعد پرائیویٹ سکولوں ،والدین اور انتظامیہ کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایہ ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوا جس کو آج پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کشمیر نے حل کرتے ہوئے کلو میٹر کے حساب سے بس کرایہ مقرر کیا ہے ۔ اس دوران سکول ایسوسی ایشن نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول گاڑیوں کو روڑ ٹیکس اور جی پی ایس سے مستثنیٰ رکھا جائے ۔ تفصیلات کے مطابق کووڈ19کے نتیجے میں سکول بند رہنے کے دوران ٹیوشن فیس کے علاوہ ’’بس فئیر‘‘والدین ، سکول منتظمین اور حکام کے درمیان ایک بڑا تنازعہ کھڑاہواتھا اور سکولوں پر اضافی بس کرایہ وصول کرنے کے الزامات لگائے جارہے تھے تاہم اس مسئلہ کو پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کشمیر کی جانب سے حتمی طور حل کرتے ہوئے کلو میٹر کے حساب سے بس کرایہ مقررکیا ہے ۔ بیان میں کیا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن نے متفقہ طورپر یہ فیصلہ لیا ہے تاکہ والدین اور سکولوں کے درمیان جو بار بار خلفشار پیدا ہوتا تھا اس کوختم کیا جائے ۔ اس ضمن میں پانچ کلومیٹر کے فاصلے کیلئے ماہانہ 1950روپے کرایہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ 5سے 10کلو میٹر کے فاصلے کیلئے 2450روپے اور اس کے بعد ہر اضافی فی کلو میٹر کیلئے 45روپے اضافی مقرر کیا گیا ہے ۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ تین سال بعد تعلیمی اداروں کا کھلنا ایک نئے چیلنج کے ساتھ سامنے آیا ہے اور ان میں قابل اعتماد، محفوظ اور سستی ٹرانسپورٹیشن سروس کی فراہمی نمایاں ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ وہ اس موقع پر اسکولوں کی بسوں اور وینوں کی کمی کا معاملہ بھی سکولوں کو درپیش ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اسے پریشان والدین اور اسکول انتظامیہ کی طرف سے سینکڑوں کالز موصول ہو رہی ہیں جو انہیں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کر رہی ہیں۔اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایسو سی ایشن کے ترجمان نے کہا، پہلے اسکول تعلیمی اور ٹرانسپورٹیشن فیس اکاؤنٹس کو ایک ساتھ ملایا کرتے تھے، تاکہ طلباء کو مناسب شرح پر ٹرانسپورٹ خدمات فراہم کی جاسکیں۔ لیکن اب صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔ سب سے پہلے اسکول فیس کمیٹی نقل و حمل اور تعلیمی فیس اکاؤنٹس کو الگ الگ رکھنے کی سفارش کرتی ہے۔لھٰذا ٹیوشن فیس میںسکول بچوں کو مفت ٹرانسپورٹیشن کی رعایت نہیں دے سکتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ پچھلے تین سالوں کے دوران زیادہ تر سکول بسوں کا خرچہ سکولوں کیلئے اضافی بوجھ تھا اورتقریباً صفر آمدنی کی وجہ سے، فٹنس سرٹیفکیٹ، روڈ ٹیکس، EMI اور دیگر اخراجات زیر التواء ہیں اس طرح ایک بہت بڑی ذمہ داری پیدا ہو رہی ہے۔ موجودہ حالات میں جب ہر شخص مالی بحران کا شکار ہے تو سابقہ نرخوں پر ٹرانسپورٹ کا کام کرنا ناممکن ہے۔ پچھلے تین سالوں کے دوران ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں بڑے فرق سے اضافہ ہوا ہے جس سے پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔اسلئے موجودہ صورتحال کے پیش نظرپرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس کل صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہوا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایسوسی اایشن نے SRTC سے رجوع کرنے کی کوشش کی تاکہ اسکولوں کو فوری بنیادوں پر گاڑیوں کا بندوبست کرنے میں مدد کی جا سکے جو کہ فی سیٹ لاگت کے حساب سے قابل عمل نہیں پایا گیا۔ایس آر ٹی سی نے مہینے کے 26دن کے کام کیلئے بسوں کی 19سیٹوں کیلئے 85,280روپے چارج کیا جو کہ ماہانہ ایک بچے کی سیٹ کیلئے چار ہزار 488روپے بنتا ہے اور 50یٹوں کی گاڑیوں کیلئے ایک لاکھ50ہزار روپے ہے جو کہ فی سیٹ 3ہزار روپے فی ماہ ہے ۔ اور محکمہ کے پاس چھوٹی گاڑیاں دستیاب نہ ہونے کے نتیجے میں چھوٹی سڑکوں سے بڑی گاڑیوں کا گزر ناممکن ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ والدین کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ معاشی صورتحال کی وجہ سے اس طرح کے چارجز برداشت نہیں کر سکتے اور PSAJK اسے پوری طرح سمجھتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اگر ہر کوئی اپنے سخت موقف پر قائم رہنے کی کوشش کرے تو کوئی پیش رفت حاصل نہیں ہو سکتی۔لہٰذا اسکول بسوں کے نرخ طے کرنے اور والدین اور اسکول انتظامیہ دونوں کی پریشانی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیااور درج بالا نرخ نامہ متفقہ طورپر فیصلہ کیا گیا ہے البتہ سرمائی تعطیلات کے دوران صرف 50فیصدی ٹرانسپورٹ فیس وصول کی جائے گی۔ ایسو سی ایشن نے والدین نے کہا ہے کہ والدین سے کسی بھی شکایت کی صورت میں PSAJK کے شکایت سیل کو اس نمبر 7889578450، 01942471110 پر کال کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔تاکہ والدین کو کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ اس دوران ایسوسی ایشن نے ایل جی انتظامیہ سے بھی اپیل کی ہے کہ سکول بسوں کو ٹرانسپورٹ سے جڑے ٹیکسوںسے مستثنیٰ رکھا جائے۔










