سرینگر / / جموں وکشمیر ایک ایسا خطہ جہاں تین دہائیوں سے نامساعد حالات کے دوران معمولات زندگی متاثر رہی تاہم اس دوران کاروباری سرگرمیاں جاری تھیں کیونکہ لوگوں کی مالی و اقتصادی حالت میوہ صنعت ودیگر آمدنی وسائل کی وجہ سے بہتر تھی لیکن کوروناوائرس کی وجہ سے تاجروں کی تجارت بُری طرح متاثر ہوئی ہے تاہم حالات معمول پر آنے کے باجود بھی کاروباری سرگرمیاں بدستور متاثر ہیں جبکہ شہر وقصبہ جات میںخریداری نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس سلسلے میں وادی کے مختلف علاقوں سے تاجروں نے بتایا کہ تجارت ایک ایسا ذریعہ ہے جو تاجروں کے ساتھ ساتھ بے روزگاروں کے لئے ایک اہم وسیلہ ہے لیکن یہ کافی حد تک متاثر ہوئی اور ابھی ان حالات سے نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کے بعدحالات پٹری پر آنے کے باوجود بھی خریداری میں بدستور نمایاں کمی دیکھنے کو ملتی ہے اس کے بنیادی محرکات ہیں کہ مجموعی طور لوگوں کی مالی حالت ابتر ہے اور وہ خریداری کی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں یا تاجروں نے اپنی تجارت وسیع کرنے کیلئے جو قرضہ بنکوں سے کمانے کیلئے لیاتھا ۔اس کا بنیادی مقصد فوت ہوا اور یہ لوگ خسارے کے شکار ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ تاجر عام قرضوں اور بنک لونز کی وجہ سے اب پریشان ہو چکے ہیں ان حالات میں ان کا جینا محال بن گیا اور بنکوں کے قسطوں کی ادائیگی بھی ناممکن بن گئی جس کے شرح سود میں آئے روز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے لفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بنک قرضوں پر جمع ہوئے سود کو معاف کیا جائے اور ان کی باز آباد کاری کیلئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ وہ ایک بار پھر اپنے ٹانگوں پر کھڑا ہوسکیں گے اور خود روزگار کماسکیں گے اور تجارتی سرگرمیاں ایک بار پھر ماضی کی طرح بحال ہونگے۔










