وہی بگ پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلم برادری کی شرکت
سرینگر/ /وادی کشمیر میں روایتی ہند مسلم بھائی چارہ قائم دائم ہے جس کی تازہ مثال پلوامہ کے وہی بگ علاقے میں دیکھنے کو ملی جہاں ایک معمر پنڈت کے انتقال کے بعد مقامی مسلم برادری نے آخری رسومات میں بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لیا ۔ نمائندے نے اس ضمن میں پلوامہ سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع کے وہی بگ علاقے میں اتوار کے روز ایک عمر رسیدہ پنڈت کی آخری رسومات ادا کرنے میں مسلمانوں نے اپنا تعاون پیش کیا۔نمائندے کے مطابق علاقے میں ایک معمر پنڈت کنہیا لال نامی پنڈت کا نتقال ہوگیا۔ کنہیا لال کے بارے میں بتایاجاتا ہے کہ وہ محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دیتے تھے اور چندسال قبل اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے جبکہ وادی میں 90 کی دہائی میں حالات خراب ہونے کے باوجود بھی کنہیا لال وادی میں ہی مقیم تھے اور محکمہ تعلیم میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔وہیں، کنہیا لال کے اہل خانہ اگرچہ وادی کے باہر رہ رہے ہیں تاہم کنہیا لال نے وادی میں اکیلے رہنے کا فیصلہ کیا۔کنہیا لال ہفتے کی شام طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔اسی دوران معمر کشمیری پنڈ ت کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی مقامی مسلم برادی مہلوک پنڈت کے گھر پہنچ گئے جہاں انہوں نے اتوار کی صبح معمر پنڈت کی آخری رسومات ادا کیں ۔ مقامی مسلم برداری نے مہلوک پنڈت کے اہل خانہ کی ڈھارس بندھائی جبکہ پنڈت کی آخری رسومات میں شرکت کرکے ان کو انجام دیا ۔ خیال رہے کہ وادی کشمیر میں ہند مسلم روایتی بھائی چارے کی صدیوں سے مثال قائم و دائم ہے جس دوران کئی مرتبہ مقامی مسلم برادری نے پنڈتو ں کی آخری رسومات ادا کی ۔










