گزریال کرالہ پورہ کے لوگو ں کی پیاس کب بجھے گی

درنگیاری واٹر سپلائی سکیم 3سالو ں سے تشنہ تکمیل

سرینگر//گزریال کرالہ پورہ کپوارہ کے لوگو ں نے محکمہ جل شکتی سے سوال کیا کہ ان کی پیاس کب بجھے گی کیونکہ درنگیاری گزریال واٹر سپلائی سکیم گزشتہ 3سال سے تشنہ تکمیل ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ 30سال قبل محکمہ نے یہا ں ایک نالہ سے واٹر سپلائی سکیم کے ذریعے لوگو ںکو پینے کا پانی فراہم کیا لیکن یہ پانی لوگو ں کو محض عارضی طور فراہم کیا جاتا ہے کیونکہ اپریل کے مہینے سے اس پانی کوکسان آبپاشی کے لئے استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ستمبر مہینے تک لوگو ں کو اس واٹر سپلائی کا پانی فراہم نہیں کیا جاتا ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ اکتوبر مہینے سے یہ نالہ بالکل خشک ہوتا ہے اور مزکورہ واٹر سپلائی سکیم ٹھپ ہوکر رہ جاتی ہے اورنتیجے کے طور لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے ہیں ۔لوگو ں کے مطابق گزریال میں پینے کے پانی کے بحران کے بعد کئی سال قبل اس وقت کی سرکار نے ایک پروجیکٹ تیار کیا تاکہ اس علاقہ کو درنگیاری چوکی بل سے پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا اور 3سال قبل درنگیاری گزریال واٹر سپلائی سکیم پر با ضابطہ طور کام شروع کیا گیا جس کے لئے گزریال علاقہ میںپانی جمع کرنے کے لئے ایک رزروائر بھی بنایا گیا جو 3سال قبل مکمل بھی ہوا ۔مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مزکورہ رزروائر سے کرالہ پورہ تک پانی سپلائی کرنے والی پایپو ں کو بھی بچھایا گیا لیکن کرالہ پورہ میں جس ٹھیکدار کو پایپیں بچھانے کا کام سونپ دیا گیا وہ لیت و لعل سے کام لے رہا ہے جس کی وجہ سے لوگو ں کو پینے کے پانی کے حوالہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ 3سال مکمل بھی ہوئے لیکن تا حال درنگیاری گزریال واٹر سپلائی سکیم کو مکمل نہیں کیا جاتا ہے ۔لوگو ں کو کہنا ہے کہ یہا ں کی خواتین کو پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور کیا جاتا ہے کیونکہ اس علاقہ میں پانی حاصل کر نے کے لئے کوئی بھی وسیلہ نہیں ہے ۔لوگو ں کے کہنا ہے کہ انہو ں نے محکمہ جل شکتی سے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ درنگیاری گزریال واٹر سپلائی سکیم کو فوری طور مکمل کیا جائے لیکن محکمہ نے خالی لوگو ں یہ کہہ کر جھوٹی تسلی دی کہ اس سکیم کو کم وقت میں مکمل کیا جائے گا لیکن عرصہ دراز سے لوگ سفر کر رہے ہیں ۔مقامی لوگو ں نے لفٹنٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔