شادی شدہ جوڑے اور ان کے حق کی حفاظت کرنا آئینی اداروں کی ذمہ داری:عدالت عالیہ
سرینگر// جموں کشمیر اور لداخ کی عدالت نے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ دو بالغ لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے کو جیون ساتھی کے طور پر منتخب کرتے ہیں اور یہ ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے جس کو آئینی منظوری حاصل ہے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ دو بالغ افراد کے شادی پر رضامندی کے بعد خاندان یا برادری یا قبیلے کی رضامندی ضروری نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ تقدس کے ساتھ ان کی رضامندی کو ترجیح دی جائے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے کہا کہ جب دو بالغ ایک دوسرے کو جیون ساتھی کے طور پر منتخب کرتے ہیں تو یہ ان کی ذاتی ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا فیصلہ کسی طبقے اور گروہ کی سوچ کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ جسٹس تاشی ربستان کی بنچ نے رسم و رواج کے مطابق شادی کرنے والے جوڑے کی درخواست کو نمٹاتے ہوئے متعلقہ پولیس کو ہدایت دی کہ انہیں مناسب سیکورٹی فراہم کی جائے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جب دو بالغ افراد ایک دوسرے کو جیون ساتھی کے طور پر منتخب کرتے ہیں تو یہ ان کی پسند کا اظہار ہے جسے آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کے تحت تسلیم کیا گیا ہے۔اس طرح کے حق کو آئینی قانون کی منظوری حاصل ہے اور ایک بار اسے تسلیم کر لینے کے بعد اس حق کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلہ کسی طبقے کی عزت کے تصور یا گروہ کی سوچ کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ دو بالغ افراد کے شادی پر رضامندی کے بعد خاندان یا برادری یا قبیلے کی رضامندی ضروری نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ تقدس کے ساتھ ان کی رضامندی کو ترجیح دی جائے۔ آزادی کے تصور کو آئینی حساسیت، تحفظ اور اقدار کی بنیاد پر تولا اور پرکھنا ہوگا۔عدالت نے کہا کہ یہ آئینی عدالتوں کا فرض ہے کہ وہ نگران کی حیثیت سے کسی شخص کی آزادی کے حق کا تحفظ کریں۔ یہ واضح ہے کہ عزت اور انتخاب کے بغیر زندگی اور آزادی کھوکھلی ہے۔ ایک شخص کے انتخاب وقار کا الگ حصہ ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جہاں انتخاب کا خاتمہ ہو وہاں وقار کا کوئی خیال نہیں رکھا جا سکتا اور کسی کو مذکورہ انتخاب کے پھلنے پھولنے میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایسا سوچنا بھی مشکل ہے۔عدالت نے کہا کہ جب دو بالغ افراد اپنی مرضی سے شادی کرتے ہیں تو وہ اپنا راستہ خود چنتے ہیں۔ وہ اپنا رشتہ مکمل کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کا یہاں ایک مقصد ہے اور انہیں ایسا کرنے کا حق ہے۔ مذکورہ حق کی کوئی بھی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی ہے۔










