سرینگر / /وسطی کشمیر بڈگام کے علاقہ چاڈورہ میں سردیوں کا موسم شروع ہونے سے قبل ہی بجلی کی سپلائی کٹوتی شروع کردی گئی ہے جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ ایک مہینے سے علاقہ میں بجلی کٹوتی کا معمول بنایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دن رات میں صرف پانچ چھ گھنٹے بجلی سپلائی کی جارہی ہے لیکن اس دوران بھی کٹوتی کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میٹر والا علاقہ ہے اور کہاکہ وہ بجلی کا استعمال کرنے کیلئے اچھی خاصی رقومات بطور فیس محکمہ پی ڈی ڈی کو فراہم کرتے ہیں اور محکمہ ہذا فیس کی ادائیگی میں صارفین کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں بلکہ فیس کی بل آتے ہی صارفین فیس کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے متحرک رہتے ہیں اور محکمہ کے ملازمین وافسران بھی صارفین سے فیس کی وصولیابی کیلئے اپنی تگدو جاری رکھتے ہیں لیکن بجلی معقول فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے وہ پلے جھاڑ دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عام لوگ بجلی سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں ان کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ زیر تعلیم طلبہ جن کے آن لائن کلاسز یا امتحانات چل رہیں ۔بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی تعلیم بُری طرح متاثر ہوتی رہتی ہے اور ان کا مستقبل تاریک ہونے کا خطرہ ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے ایس ڈی ایم چاڈورہ اور چیف انجینئر آر اینڈ بی کشمیر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقہ کو مرتب شدہ شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کی جائے تاکہ ان کٹھن ایام میں ان کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے اور زیر تعلیم بچوں کی تعلیم متاثر ہونے سے بچ جائیں ۔










