کابل ۔امریکی افواج کے افغانستان سے نکلتے ہی طالبان جنگجو خوشی سے جھوم اٹھے۔ انہوں نے 31 اگست تک مغربی افواج کی آخری جماعت کے ملک سے انخلاء کے کابل ایر پورٹ کے ٹارمک پر مارچ کیا ، یہاں تک کہ اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہوا میں فائرنگ بھی کی لیکن کچھ دن بعد سب کچھ بدل گیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ وہ دھوکہ دہی محسوس کرتے ہیں کیونکہ امریکیوں نے کابل سے روانگی سے قبل فوجی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کو ناکارہ بنادیا ہے ۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ امریکی اپنے استعمال کے لیے ہیلی کاپٹروں کی ایک بڑی تعداد چھوڑ دیں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک قومی اثاثہ ہے اور اب ہم حکومت ہیں اور یہ ہمارے لیے بہت مفید ہو سکتا تھا۔ 31 اگست کی صبح کابل ایرپورٹ انخلاء کے نمونوں سے بھرا ہوا تھا۔ ٹرمینل کے اندر کپڑوں ، سامان اور دستاویزات کے ڈھیر بکھرے پڑے تھے۔ امریکی فورسز کے زیر استعمال کئی سی ایچ -46 ہیلی کاپٹر ہینگر میں کھڑے تھے۔ امریکی فوج نے روانہ ہونے سے پہلے 27 ہمویز اور 73 طیاروں کوناکارہ کر دیا۔ طالبان کے پاس اب 48 طیارے رہ گئے ہیں حالانکہ ان میں سے کتنے کام کر رہے ہیں اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ان کی تکنیکی ٹیمیں طیران گاہ کی مرمت اور صفائی کر رہی ہیں اور لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال اس علاقے سے گریز کریں۔ فی الحال طالبان افغانستان کو دوبارہ چلانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں یہ ایک ایسا کام ہے جو ان جنگجوؤں کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں میں شورش کرتے ہوئے گزارا ہے۔










