سری نگر//وادی کشمیر میں میرواعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس نے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کرنے اور ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کرنے کے نتیجے میں اس خطے کی ‘متنازعہ حیثیت’ کو زک پہنچانے کی کوششوں کی دوسری برسی کے موقع پر اپنے بیان میں اس کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔بیان میں بھارت سمیت بین الاقوامی برادری کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ حکومت نے 5 اگست 2019 میں اٹھائے گئے اقدامات سے جموں و کشمیر تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس کا ثبوت چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول یعنی ایل اے سی پر محاذ آرائی کی صورتحال ہے جبکہ ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے پر عمل سے قدرے سکون ملا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت مسلمہ عوامی آواز اور قیادت کو نظر بند اور پابند سلاسل کر کے عوام کے حقوق کو نہ صرف پامال کر رہی ہے بلکہ انہیں طاقت کے بل پر ڈرانے اور دھمکانے کا عمل جاری ہے، کالے قوانین کے بل پر گرفتاریوں کا سلسلہ برابر جاری ہے، آزادانہ طور پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے حوالے سے میڈیا پر قدغن ہے اور ملازم پیشہ افراد کا مستقبل مخدوش ہے کیونکہ انہیں جبراً برطرف کیا جارہا ہے۔حریت نے کہا کہ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اگست 2019 سے قبل نئی دہلی صرف کشمیر میں ہی شدید عوامی مزاحمت کا سامنا کر رہی تھی لیکن اب اُسے چوطرفہ مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔ لیہہ، کرگل اور جموں میں شدید بے اطمینانی اور بے چینی پائی جا رہی ہے اور وہ بھی اس فیصلے کے خلاف صف آرا ہو رہے ہیں۔حریت کانفرنس نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حکومت ہند کو اصل حقائق کا ادراک کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے متنازعہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حقیقی قیادت جو عوامی خواہشات کی نمائندگی کرتی ہے کے ساتھ مذاکرات کے لئے راہ ہموار کرنی چاہئے۔ اس عمل سے شمالی اور مغربی سرحدوں کے ساتھ ساتھ سیاسی دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تناظر میں حریت کانفرنس حکومت ہند پر زور دیتی ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ بھی مثبت مذاکرات کا آغاز کریں جبکہ حریت دونوں حکومتوں کے مابین بات چیت پر رضامندی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔اس میں کہا گیاہے کہ حریت کانفرنس کی حقائق اور زمینی صورتحال کے پیش نظر یہ دیرینہ پالیسی رہی ہے کہ مسئلہ سے جڑے تمام فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکرات ہوں کیونکہ جنگ و جدل اور تصادم کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے جبکہ بات چیت سے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ محاذ آرائی اور جنگ و جدل نقصان دہ ہے اور یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے لئے حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق سمیت تمام سیاسی نظر بندوں، سینکڑوں نوجوانوں جنہیں ‘کالے قوانین’ کے تحت مختلف جیلوں اور عقوبت خانوں میں مقید رکھا گیا ہے انہیں حکومت فوری طور رہا کریں۔بیان میں حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مسئلہ کو جوں کا توں رکھنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے اور اس طرح کی پالیسی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔اس میں مزید کہا گیا ہے: ‘اس ضمن میں حریت کانفرنس اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے کیونکہ گزشتہ تین دہائیوں سے ہماری سرگرمیاں جو عوامی احساسات اور خواہشات پر مبنی ہیں کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور ہمیں ہر اُس پلیٹ فارم سے اپنی آواز بلند کرنے کی اجازت ہونی چاہئے جو حق اور انصاف کی حمایت کرتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازع کو منصفانہ بنیادوں پر حل کرنے کے لئے جامع اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ جنوب ایشیائی خطے میں کروڑوں عوام پر سکون ماحول میں امن و سلامتی کی زندگی گزار سکیں۔










