جموں وکشمیر میں شعبہ تعلیم بُری طرح متاثر ،بچوں کی تعلیم کے حوالے سے والدین فکر مند

سرینگر / /عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائر س کے مثبت معاملات میں کمی واقع ہونے کے بعد حالات میں بہتری آنے لگی اور تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر تقریباً تمام ادارے اور دفاتر کھل گئے۔جموں وکشمیر میں لاک ڈاون کے اعلان سے پہلے اسکولوں کو مقفل کردیا گیا اوردرس و تدریس کا نظام متاثر ہوا ۔تاہم ایک احساس کے تحت شہر ودیہات میں سرکاری وغیر سرکاری اسکولوں میں تعینات اساتذہ نے محکمہ تعلیم کی نئی ٹرینڈ کو بروئے کار لاتے ہوئے ز وم ایپ کے ذریعے زیر تعلیم بچوں کوایک لائحہ عمل کے تحت متواتر طور آن لائن کلاسز پڑھانے کا عمل شروع کیا ہے اور مجموعی طور اساتذہ آن لائن پڑھانے میں خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیںاور بچے بھی اپنے اساتذہ سے استفادہ کرتے ہیں ۔کورونا وائرس کی وجہ سے پیداشدہ صورتحال کے پیش نظر اس طرح کے اقدام اٹھانا لازمی بن گئے تھے ۔ آن لائن کلاسز کے ذریعے بچے گھر بیٹھے کم از کم اپنے اساتذہ اور کتابوں سے وابستہ رہتے ہیں۔اگر چہ یہ آن لائن سسٹم غریب اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کیلئے بار گراں اور مشکل ہے کیونکہ ان کے پاس یا تو فون دستیاب نہیں ہے یا نیٹ ورک کامسئلہ درپیش ہے ۔تاہم بچوں کی اکثریت نے اپنے والدین یا دیگر رشتہ داروں کے فون حاصل کئے ہوئے ہیںاور زوم ایپ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں یا مقامی اساتذہ نے کمیونٹی کلاسز کے تحت درس وتدریس کا عمل شروع کیا ہے۔لیکن آن لائن کلاسز میں بچوں کے روشن مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں ہے ۔بلکہ مجموعی طورآن لائن کلاسز سے بچوں کی نشو نما اور اخلاقی قدریں متاثر ہونے لگی ہیں ۔ کیونکہ بچے موبائیل فونزپر پڑھنے کے بجائے ،ڈرامہ،سرئیل،فلمیں اور گیمز دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں جو ان کے مستقبل کیلئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے ۔کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے والدین نے بتایاکہ کوروناوائرس کی لہر میں نمایاں کمی واقع ہونے پر اگر چہ تمام کام کاج بحال کئے گئے تو تعلیمی اداروں کو کھولنے میں کیا حرج ہے ؟ انہوں نے کہا کہ درس وتدریس کیلئے بچے اور استاد کا بالمشافہ ہونا لازمی امر ہے کیونکہ طالب علم پر استاد کی نگرانی رہتی ہے اورصحیح ڈھنگ سے پڑھائی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کی تشکیل نو معاملہ کے بعدپیدا شدہ صورتحال یا عالمگیر وبائی بیماری کورونا وائرس کی مہاماری کی وجہ سے گذشتہ تقریباً دو تین برسوں سے اسکول بند ہیں جس سے ان کے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہوگیا ۔ اسکول بند ہونے کے دوران سرکار نے جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا چونکہ آج کے دور میں بچے اس حوالے سے ہوشیار ہیں اور موبائیل کی تمام ایپلی کیشنزکا استعمال بہ آسانی باعمل لاتے ہیں اور ان حالات میں درس وتدریس کا یہی واحد ذریعہ دستیاب ہے اور اسی وجہ سے امیرزادوں کے ساتھ ساتھ غریب لوگوں نے بھی مجبوری کے باعث اپنے بچوں کا مستقبل روشن و تابناک بنانے کیلئے قرض وفرض کرکے ان کو فون مہیا کئے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ متعلقہ اساتذہ بچوں کو پابند بنانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم اسکول کی طرح وہ ان پر قابو نہیں پاتے ہیں۔ فون کے غلط استعمال پرجب والدین ان کو قابو میں لانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ذہنی کوفت کے شکار ہوجاتے ہیں ۔کیونکہ ایک طرف معصوم بچے پابند سلاسل ہوئے جس سے وہ اپنی طفلانہ حرکتوں کو انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں اور اس دوران وہ پڑھائی کے بجائے موبائیل فون کی دوسری ایپلی کیشنز کو استعمال میں لاکراپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیںجبکہ ان کوان اسباق سے آئندہ کیلئے واقف ہونا لازمی ہوتا ہے جب بچے کی بنیادصحیح ہوتو وہ مستقبل کے تمام مشکلوں اور چیلنجوں کا بہ آسانی حل نکال سکتے ہیں ۔ موبائیل فون ان کے مستقبل کی اب ضمانت معلوم ہوتی ہے لیکن بچوں کے استعمال کے اعتبار سے یہی ان کوتاریکیوں میں دھکیلنے کا سبب بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو قابو میں لانے کیلئے اسکولوں کو کھولنے کی ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیگر اداروں میں کام کاج بحال کیا گیا اسی طرح تعلیمی اداروں کو کھولنے کے احکامات صادر کئے جائیں اور ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس سے ہماری نئی نسل کا کوروناوائرس جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکے اور ان کامستقبل تاریک ہونے کے بجائے تابناک اور روشن ثابت ہوجائے۔