کشمیرکو محفوظ رکھنے کیلئے محض عالمی سطح پر وعدے کافی نہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی ٹھوس اقدامات ناگزیر / ماہرین
سرینگر / این این بی // وادی کشمیر میں برفباری میں مسلسل کمی کے بعد عالمی حدت کے خطرناک اثرات کا اشارہ موصول ہونے پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برفباری میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 30 فیصد سے زائد کمی سے آبی وسائل، زراعت، سیاحت اور ماحولیاتی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو گیا جبکہ سیلاب، بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے کے واقعات میں اضافے بھی قابل تشویش ہے ۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وادی کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کے اثرات تیزی سے نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں گزشتہ کئی برسوں سے برف باری میں مسلسل کمی، موسم سرما میں غیر معمولی تبدیلیوں، درجہ حرارت میں اضافے اور شدید موسمی واقعات نے ماحولیاتی ماہرین اور عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق برف باری میں کمی محض وادی کے قدرتی حسن اور موسم سرما کی روایتی رونق کو متاثر کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پانی کی دستیابی، زراعت، باغبانی، پن بجلی کی پیداوار، سیاحت اور مجموعی ماحولیاتی توازن پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ماہرین نے کشمیر میں برف باری کی کمی اور عالمی حدت کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو آنے والے برسوں میں خطے کو مزید سنگین ماحولیاتی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کشمیر میں روایتی طور پر موسم سرما کا سب سے سخت مرحلہ، جسے چلہ کلان کہا جاتا ہے، زندگی کے معمولات اور قدرتی نظام میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چلہ کلاں کے 40 روزہ عرصے کے دوران ہونے والی بھاری برف باری نہ صرف پہاڑوں اور وادیوں کو برف کی سفید چادر سے ڈھانپ دیتی تھی بلکہ یہ برف قدرتی آبی ذخیرے کے طور پر بھی کام کرتی تھی۔ پہاڑوں پر جمع ہونے والی برف موسم بہار اور گرمیوں میں پگھل کر دریاو ¿ں، ندی نالوں اور زیرزمین آبی ذخائر کو پانی فراہم کرتی تھی، جس سے زراعت، باغبانی اور دیگر ضروریات پوری ہوتی تھیں۔تاہم حالیہ برسوں میں اس روایتی موسمی نظام میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ برفباری میں کمی کے ساتھ اس کے آغاز میں تاخیر بھی ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیرس کو مناسب مقدار میں برف نہیں مل پاتی اور زیرزمین پانی کے ذخائر کی قدرتی تجدید بھی متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق برف باری میں کمی کے اثرات سب سے زیادہ زراعت اور باغبانی کے شعبوں پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ کسانوں کو فصلوں کی پیداوار میں کمی، پانی کی قلت اور موسمی حالات کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین نے مستقبل میں سیلابی خطرات کم کرنے کے لیے دریائے جہلم کی سائنسی بنیادوں پر گاد نکالنے، فلڈ اسپِل چینلز کی بحالی، آبی ذخائر اور ویٹ لینڈز کے تحفظ، غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے، دریائی پشتوں کو مضبوط بنانے اور جدید سیلابی پیش گوئی کے نظام کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ماہرین کے مطابق زرعی زمینوں کا مسلسل ختم ہونا صرف کاشت کاری کے شعبے کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے خطے کا غذائی تحفظ، روزگار، دیہی معیشت اور قدرتی ماحول بھی متاثر ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ دور میں زرعی اراضی کا تحفظ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ یہی زمینیں خطے کو شدید موسمی حالات کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ماہرین ے مطابق خطے میں اب روایتی اور مسلسل برف باری کے بجائے بعض اوقات شدید بارشوں اور غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے قدرتی نظام پر دباو ¿ بڑھ رہا ہے۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کشمیر جیسے حساس پہاڑی خطے کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے محض عالمی سطح پر وعدے کافی نہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ برفانی ذخائر، جنگلات، ویٹ لینڈز، دریاو ¿ں اور زرعی اراضی کا تحفظ، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور سائنسی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔










