modi

کشمیر سے کینار کماری تک ملک کی ترقی کچھ عناصر کو راس نہیں آتی

عوام سے میرا وعدہ ہے کہ ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا / وزیر اعظم مودی

سرینگر / این این بی // زندگی کی آخری سانس تک ملک کے عوام کی خدمت کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کسان، نوجوان اور خواتین ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم کچھ عناصر ملک کی ترقی اور کامیابی سے خوش نہیں ہیں۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق گجرات کے ضلع بناس کانٹھا کے شہر بھلڈی میں بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر کا افتتاح کرنے اور تقریباً 14 ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرنے کے بعد ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کسان، نوجوان اور خواتین ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم کچھ عناصر ملک کی ترقی اور کامیابی سے خوش نہیں ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ ملک کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا رہے اور جب بھی ملک کو کسی بحران کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے تناظر میں کھاد اور گھریلو گیس کی دستیابی کے حوالے سے افواہیں پھیلا کر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔مودی نے کہا کہ ملک اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متحد ہوکر نمٹ رہا ہے، لیکن بعض عناصر عوام کو گمراہ کرنے اور مصنوعی بحران پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن نے کسانوں میں یہ خوف پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جنگ کے باعث کھاد دستیاب نہیں ہوگی، جس کے نتیجے میں مصنوعی قطاریں لگیں اور لوگوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اسی طرح خواتین کو بھی یہ کہہ کر خوفزدہ کیا گیا کہ کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی دستیاب نہیں ہوگی اور وہ اپنے بچوں کے لیے کھانا کیسے تیار کریں گی اور انہیں اسکول کیسے بھیجیں گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان عناصر کا مقصد ملک بھر میں افراتفری پیدا کرکے مودی کو بدنام کرنا تھا۔مودی نے کہا کہ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور مغربی ایشیا میں جنگ جاری ہونے کے باوجود حکومت نے ملک کے کسانوں کے لیے کھاد کی کوئی قلت پیدا نہیں ہونے دی۔کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں کھاد اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن حکومت نے اس اضافی بوجھ کو کسانوں پر منتقل نہیں ہونے دیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں یوریا کی ایک بوری کی قیمت تقریباً 3 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہندوستانی کسانوں کو یہی بوری 300 روپے سے بھی کم قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت خود اس اضافی لاگت کو برداشت کر رہی ہے تاکہ کسانوں کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔وزیر اعظم کے مطابق ڈی اے پی (ڈائی امونیم فاسفیٹ) کھاد کی ایک بوری کی عالمی قیمت 5 ہزار روپے سے تجاوز کرچکی ہے، تاہم ہندوستانی کسانوں کو یہ بوری 1350 روپے میں دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف سرکاری اسکیموں کے ذریعے ملک کے کسانوں کو مجموعی طور پر 50 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا مالی فائدہ پہنچایا گیا ہے یا ان کی اتنی بچت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے کو ترجیح دی ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے پردھان منتری کسان سمان ندھی اسکیم کی 24ویں قسط بھی جاری کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسط کے تحت ملک کے تقریباً 10 کروڑ کسانوں کے بینک کھاتوں میں 18 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی رقم منتقل کی گئی ہے۔پی ایم کسان اسکیم کے تحت اہل کسانوں کو سالانہ 6 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ مودی نے کہا کہ 2019 میں اسکیم کے آغاز سے اب تک چھوٹے کسانوں کو اس کے تحت تقریباً 4.5 لاکھ کروڑ روپے براہ راست فراہم کیے جاچکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے کسانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے تقریباً 16 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، جبکہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران گندم اور دھان کے کاشتکاروں کو کم از کم امدادی قیمت (MSP) کے تحت 24 لاکھ کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔وزیر اعظم نے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران اس اسکیم کے تحت کسانوں کو 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا معاوضہ فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم کسم اسکیم کے تحت تقریباً 12 لاکھ شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر پمپ نصب کیے جاچکے ہیں، جس سے کسانوں کو آبپاشی کے لیے ڈیزل پر انحصار کم کرنے اور اخراجات بچانے میں مدد ملی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا، ڈیزل پر انحصار کم کرنا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان پانچ اہم سرکاری اسکیموں کے ذریعے ہی کسانوں کو مجموعی طور پر 50 لاکھ کروڑ روپے کے مساوی مالی فوائد حاصل ہوئے ہیں یا ان کے اخراجات میں اتنی بچت ہوئی ہے، جس سے ان کی آمدنی میں اضافے میں مدد ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ملک کے 140 کروڑ عوام کی محبت اور حمایت حاصل ہے اور کانگریس یا اس کے اتحادی عوام اور میرے درمیان قائم اس مضبوط رشتے کو توڑ نہیں سکتے۔انہوں نے کہاکہ یہ آواز ضلع بناس کانٹھا کے دیہات سے لے کر کشمیر اور کنیا کماری تک پہنچ چکی ہے۔