کہا، بلاتعطل بجلی کی فراہمی اور صارفین کو بہتر خدمات اوّلین ترجیح ہونی چاہیے
سری نگر// وزیر برائے ریونیو، پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (پی ڈِی ڈِی)، قانون، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، رِی ہیبلی ٹیشن و رِی کنسٹرکشن (ڈِ ی ایم آر آر آر) اور الیکشن محکمہ جات علی محمد ساگر نے آج سول سیکرٹریٹ سری نگرمیں محکمہ بجلی کی ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ کا مقصد محکمے کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینا، سرما کی تیاریوں کا جائزہ لینا ، جموں و کشمیر میں بجلی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور بجلی کی خدمات بہتر بنانے سے متعلق اہم اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جائزہ لینا تھا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی ڈِی ڈِی اشونی کمار، تمام پاور کارپوریشنوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز، ڈائریکٹر فائنانس پی ڈِی ڈِی، سپیشل سیکرٹری ایس/پی، ڈائریکٹر پلاننگ، ایڈیشنل سیکریٹریز (اے/زیڈ اور لیگل)، کے پی ڈی سی ایل، جے پی ڈی سی ایل، جے کے پی ٹی سی ایل، جے کے پی سی ایل اور جے کے پی ڈی سی ایل کے چیف انجینئروں، سپراِنٹنڈنگ انجینئروں اور ایگزیکٹیو انجینئروں کے علاوہ چیف الیکٹریکل انسپکٹر اور محکمے کے دیگر سینئر افسران اور متعلقہ فیلڈ اَفسران نے شرکت کی جبکہ جموں میں موجود افسران نے بذریعہ ورچیول موڈ میٹنگ میں حصہ لیا۔دورانِ میٹنگ اَفسران نے وزیرموصوف کو محکمہ کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی کاموں کی پیش رفت، بجلی کی پیداوار اور خریداری کے اِنتظامات، ترسیل و تقسیم کے بنیادی ڈھانچے، مالی کارکردگی، آپریشنل چیلنجز اور مستقبل کی ضروریات سے آگاہ کیا۔وزیر نے قابلِ اعتماد، سستی اور معیاری بجلی ایک ضروری عوامی خدمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محکمے کے ہر اقدام کا حتمی مقصد بجلی کی بہتر فراہمی اور صارفین کا زیادہ اطمینان یقینی بنانا ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِنتظامی کارکردگی، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور تمام سطحوں پر مؤثر ہم آہنگی کو عوامی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے نے سرمائی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے بالخصوص برف سے ڈھکے، دور دراز، پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں قابلِ اعتماد بجلی سپلائی یقینی بنانے کے لئے پیشگی جامع اِنتظامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ٹرانسفارمروں، کیبلز، کنڈکٹروں اور دیگر ضروری سازوسامان کا مناسب ذخیرہ سٹریٹجک طور پر طے شدہ مقامات پر رکھا جائے تاکہ بریک ڈائون او رایمرجنسی صورتحال میں بجلی فوری طور پر بحال کی جا سکے۔علی محمد ساگر نے اِس بات پر زور دیا کہ سرمائی تیاریاں زمینی سطح پر ٹھوس انتظامات کی صورت میں نظر آنی چاہئیں اور کمزور بنیادی ڈھانچے کا باقاعدہ معائینہ، ممکنہ رُکاوٹوں کی نشاندہی اور مناسب تکنیکی اَفرادی قوت و مشینری کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ اُنہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ فیلڈ سطح پر ردِعمل کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور خراب موسم کے دوران بجلی کی تیز رفتار بحالی کے لئے محکمے کے مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر کوآرڈی نیشن یقینی بنائی جائے۔اُنہوں نے کہا کہ ہسپتالوں، صحت مراکز، پینے کے پانی کی تنصیبات، تعلیمی اِداروں اور دیگر اہم عوامی سہولیات سمیت لازمی خدمات کو بالخصوص شدید برفباری اور خراب موسم کے دوران بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ میٹنگ میں بجلی ایمنسٹی سکیم کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں وزیرموصوف نے کہا کہ اس کے مطلوبہ فوائد تمام اہل صارفین تک پہنچنا چاہیے۔ اُنہوں نے آسان طریقہ کار، مؤثر عوامی رسائی اور مقدمات کو بروقت نمٹانے پر زور دیا تاکہ لوگوں کو غیر ضروری مشکلات کے بغیر سکیم کے فوائد حاصل کرنے میں سہولیت فراہم کی جاسکے۔اُنہوں نے بجلی کی مجموعی دستیابی اور ڈیمانڈ سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اضافی بجلی کی خریداری کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا جس میں بجلی کے تبادلے کے انتظامات کے ذریعے اتر پردیش سے تقریباً 200 میگاواٹ کی مجوزہ خریداری شامل ہے تاکہ ڈیمانڈ او رسپلائی کے فرق کو پُر کیا جاسکے۔ اُنہوں نے بجلی کی ضروریات کے پیشگی تشخیص اور بروقت خریداری کی منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ بجلی کی مناسب دستیابی کو بالخصوص سردیو ں کی زیادہ طلب کے دوران یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر بجلی نے ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر سکیم (آر ڈِی ایس ایس) کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ڈِسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مضبوط بنانے، اوورلوڈ ٹرانسفارمروں اور دیگر آلات کو تبدیل کرنے، فیڈر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور تکنیکی و تجارتی نقصانات کو کم کرنے کے کاموں کو تیز کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ ان کاموں کی انجام دہی کی کڑی نگرانی کریں تاکہ سکیم کے مطلوبہ فوائد کو بجلی کی فراہمی میں بہتری اور صارفین کے اطمینان میں اِضافہ کیا جاسکے۔اُنہوں نے جموں و کشمیر بھر میں سمارٹ میٹر کی تنصیب کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور اِس بات پرزور دیا کہ تکنیکی اقدامات شفافیت، درست بلنگ، جوابدہی اور صارفین کی بہتر خدمات کو فروغ دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو اَپنانے سے بجلی کی تقسیم کے نظام پر عوامی اعتماد مضبوط ہونا چاہیے اور صارفین کے مسائل کو مناسب رابطے، بیداری اور شکایات کے فوری ازالے کے نظام کے ذریعے دور کرنے پر زور دیا۔بجلی کی موجودہ پیداواری صلاحیت، بجلی کی دستیابی اور دستیاب وسائل کو بہتر طور پر بروئے کار لانے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیر نے پیداوار بڑھانے، عملی کارکردگی بہتر بنانے اور دستیاب بجلی کے وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لئے تمام ممکنہ راستے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے ٹرانسمیشن لائنوں، گرڈ سٹیشنوں، صلاحیت میں اضافے اور دیکھ ریکھ کے کاموں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور افسران کو ہدایت دی کہ بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کی نشاندہی کریں، رُکاوٹوں کو دور کریں اور ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور بجلی کی فراہمی کو بہتر کرنے کے لئے ضروری اقدامات میں تیزی لائیں۔وزیرموصوف نے محکمہ کی مالی اورآپریشنل صحت بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بلنگ کی کارکردگی، ریونیوکی وصولی اور مجموعی تکنیکی و تجارتی (اے ٹی اینڈ سی) نقصانات کو کم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بجلی سیکٹر کی دیرپائی کے لئے ریونیو کی بہتر وصولی اور مالی نظم و ضبط اہم ہیں۔ اُنہوں نے حقیقی صارفین کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے درست میٹرنگ، بروقت بِلنگ اور مؤثر ریونیو کی وصولی کو یقینی بنانے کے لئے اِدارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔اُنہوںنے افسران کو ہدایت دی کہ صارف دوست رویہ اَپنائیں اور غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی، خراب ٹرانسفارمروں، خراب ڈِسٹری بیوشن لائنوں، کم وولٹیج اور بجلی کی بحالی میں تاخیر سے متعلق شکایات کا فوری اَزالہ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ شیڈول شٹ ڈائون کے بارے میں صارفین کو پہلے سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ اُنہوں نے شکایات کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی پر بھی زور دیا کہ افسران عوامی شکایات کے لئے بالخصوص سردیوں کے مہینوں میں قابلِ رسائی اور جوابدہ رہیں۔دورانِ میٹنگ پی ڈِی ایل اور سی ایل ڈبلیو ورکروں کے زیراِلتوأ مسائل پر بھی خصوصی توجہ دی گئی جو پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ منسلک ہیں۔ وزیرموصوف نے ان کے معاملات کا جائزہ لینے کے لئے ایک منصفانہ، شفاف اور وقت کا پابند طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔










