ہندوستان پوری دنیا کو ایک خاندان تصور کرتا ہے، ہم جب بولتے ہیں تو سب سنتے ہیں / راجناتھ سنگھ
سرینگر / این این بی // بھارت اب کمزور ملک نہیں ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا، ”ہم کسی کو اشتعال نہیں دلاتے، لیکن اگر کوئی ہمیں اشتعال دلائے تو ہم اسے بخشتے نہیں ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ بھارت کی دفاعی تیاریوں میں بہتری آئی ہے اور ملک اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کی عالمی حیثیت اور دفاعی تیاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور آج دنیا بھارت کی بات کو سنجیدگی سے سنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسی ملک کو اشتعال نہیں دلاتا، تاہم اگر کوئی اسے اشتعال دلانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، بھارت کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں اور بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ نے ملک کے موقف کو مزید مستحکم کیا ہے۔راجناتھ سنگھ فلپائن کے شہر سیبو میں آسیان وزرائے دفاع اجلاس پلس کے موقع پر ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت، معاشی ترقی، دفاعی صلاحیتوں اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مختلف شعبوں میں ترقی کی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ آج عالمی سطح پر بھارت کی حیثیت پہلے سے زیادہ مستحکم ہوئی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی کو مختلف ممالک کی جانب سے دیے گئے اعلیٰ ترین شہری اعزازات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 35 ممالک کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کو اعزازات سے نوازا جانا بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ کی عکاسی کرتا ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ آج جب بھارت عالمی امور پر اپنا موقف پیش کرتا ہے تو دنیا اس پر توجہ دیتی ہے۔ ان کے مطابق، ملک کی سفارتی سرگرمیوں، معاشی ترقی اور دفاعی صلاحیتوں نے عالمی سطح پر بھارت کی شناخت کو مزید نمایاں کیا ہے۔انہوں نے عالمی تعاون کے حوالے سے بھارت کے فلسفے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان پوری دنیا کو ایک خاندان تصور کرتا ہے۔ انہوں نے قدیم ہندوستانی تصور ’وسودھیو کٹمبکم‘ کا حوالہ دیا، جس کا مطلب ہے کہ پوری دنیا ایک خاندان ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی روایات میں تمام جانداروں کے لیے احترام کا تصور پایا جاتا ہے۔ انہوں نے ناگ پنچمی کے موقع پر سانپوں کو دودھ پلانے کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستانی معاشرے کے وسیع القلب رویے کی ایک مثال ہے۔وزیر دفاع نے بھارت کی معاشی ترقی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور مستقبل میں اس کی اقتصادی حیثیت میں مزید بہتری کی توقع ہے۔انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی تو بھارت اب تک دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں شامل ہوچکا ہوتا۔ تاہم، انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت کا بڑی عالمی معیشتوں میں شامل ہونا مستقبل میں ممکن ہوگا۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ بھارت کو دفاعی شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، ایک مستحکم معیشت اور مضبوط دفاعی تیاریوں کا باہمی تعلق ملک کی مجموعی ترقی اور سلامتی کے لیے اہم ہے۔ملک کو درپیش سلامتی کے خطرات اور دفاعی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب کمزور ملک نہیں ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔وزیر دفاع نے کہا، ”ہم کسی کو اشتعال نہیں دلاتے، لیکن اگر کوئی ہمیں اشتعال دلائے تو ہم اسے بخشتے نہیں ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ بھارت کی دفاعی تیاریوں میں بہتری آئی ہے اور ملک اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی پالیسی کسی کو بلاوجہ نشانہ بنانے کی نہیں ہے، تاہم قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، آپریشن سندور نے بھی بھارت کی دفاعی صلاحیتوں اور سلامتی سے متعلق اس کے موقف کو نمایاں کیا ہے۔راجناتھ سنگھ نے بھارت اور فلپائن کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون اہمیت اختیار کررہا ہے اور براہموس میزائل نظام کی فراہمی اس تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے۔انہوں نے بتایا کہ فلپائن نے بھارت سے براہموس میزائل نظام حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ پیش رفت دفاعی سازوسامان کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔بھارت اور فلپائن کے دفاعی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے اس بات کو اجاگر کیا کہ دفاعی تعاون کے ذریعے دونوں ممالک اپنی سلامتی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔راجناتھ سنگھ کے خطاب میں بھارت کی سفارتی حیثیت، اقتصادی ترقی، دفاعی تیاریوں اور علاقائی شراکت داری کے موضوعات نمایاں رہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی برادری کے ساتھ تعاون اور بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم ملک کی سلامتی اور دفاعی مفادات کا تحفظ بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔فلپائن میں ہندوستانی برادری سے خطاب کے دوران وزیر دفاع نے بھارت کی ترقی اور دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار مزید مستحکم کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔










