سکینہ ایتو نے پارٹی میں بغاوت کے امکان کو مسترد کر دیا
سرینگر// یو این ایس / نیشنل کانفرنس کی سینئر رہنما اور کابینہ وزیر سکینہ ایتو نے کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پارٹی کے اندر بغاوت یا اختلافات کے شدت اختیار کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہنماو ¿ں کے درمیان اختلافِ رائے سے جماعت کی یکجہتی متاثر نہیں ہوتی۔کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر بعض سینئر اراکین اسمبلی کی ناراضگی سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے ثاقینہ ایتو نے کہا کہ پارٹی کے ارکان کو اپنے تحفظات اور شکایات کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے اور ان کے خیالات کو خودبخود قیادت کی مخالفت تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔نیشنل کانفرنس کو ایک خاندان قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کے رہنما اور اراکین اسمبلی انہیں تفویض کردہ عہدوں سے قطع نظر جماعت اور عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں رہتے ہوئے عوام کی خدمت اور تنظیم کے لیے کام کرنے کا واحد راستہ وزارت کا عہدہ حاصل کرنا نہیں ہے۔ثاقینہ ایتو کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب منگل کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی کونسل آف منسٹرز میں چار اراکین اسمبلی، علی محمد ساگر، شمیمہ فردوس، میر سیف اللہ اور الطاف احمد کلو کو شامل کیا گیا۔کابینہ میں توسیع کے دوران سینئر رہنما مبارک گل کو نظرانداز کیے جانے کے بعد ان کے حامیوں نے سری نگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا اور انہیں کابینہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔اسی طرح عبدالحمید لارمی نے بھی وزارت کے عہدے کے لیے نظرانداز کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اپنی سینیارٹی اور پارٹی کے ساتھ طویل وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔بعد ازاں نیشنل کانفرنس نے مبارک گل کو پارٹی کا جنرل سیکریٹری مقرر کیا۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی کابینہ میں توسیع کے بعد پارٹی اراکین اسمبلی میں پائی جانے والی مایوسی کو تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر رکن اسمبلی وزیر بننے کی خواہش رکھتا ہے، تاہم جموں و کشمیر کی مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت اپنی نوعیت کے کچھ چیلنجز رکھتی ہے۔ناصر اسلم وانی کے مطابق، پارٹی کے ارکان میں ناراضگی یا مایوسی پیدا ہو سکتی ہے اور انہیں اس کا حق بھی حاصل ہے، کیونکہ وہ ایک خاندان کا حصہ ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کابینہ میں شامل نہ کیے جانے والے اراکین اسمبلی کے پاس مایوسی محسوس کرنے کی وجوہات موجود ہیں۔ثاقینہ ایتو کے بیان کو پارٹی قیادت کی جانب سے کابینہ میں توسیع کے بعد پیدا ہونے والی ناراضگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں پارٹی رہنماو ¿ں نے اختلافات کے باوجود تنظیمی اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔










