اراضی قوانین کی خلاف ورزی پر ریونیو افسر کے خلاف کارروائی

اراضی قوانین کی خلاف ورزی پر ریونیو افسر کے خلاف کارروائی

تین سال تک فیلڈ پوسٹنگ نہیں ملے گی،جموں وکشمیر حکومت کا فیصلہ

سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر حکومت نے اراضی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے زمین کی دو میوٹیشنز درج کرنے کے معاملے میں ایک ریونیو افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے اسے سینسر (Censure) کی سزا دی ہے۔، فنانشل کمشنر (ریونیو) کی جانب سے 7 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ حکم نامے کے تحت مشتاق احمد، جو اس وقت گولے کے نائب تحصیلدار تھے اور اب ڈوڈہ میں ریجنل ڈائریکٹر، سروے اینڈ لینڈ ریکارڈز کے دفتر سے منسلک گرداور ہیں، کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔یہ معاملہ جموں ضلع کے گولے گاو ¿ں میں زمین کے حقوق کی منتقلی سے متعلق ہے، جہاں نومبر 2018 اور فروری 2019 میں بالترتیب میوٹیشن نمبر 2374 اور 2470 درج کی گئی تھیں۔راجیشور سبھروال نے ان دونوں میوٹیشنز کو فنانشل کمشنر (ریونیو)/کمشنر ایگرین ریفارمز کے سامنے چیلنج کیا تھا۔ متعلقہ اتھارٹی نے 2 مئی 2024 کو اپنے فیصلے میں دونوں میوٹیشنز کو منسوخ کرتے ہوئے قرار دیا کہ جموں و کشمیر ایگرین ریفارمز ایکٹ 1976 کا اطلاق بے دخل شدہ افراد کی زمین پر نہیں ہوتا، جبکہ میوٹیشن درج کرتے وقت ریکارڈ میں موجود قابض شخص کو طلب بھی نہیں کیا گیا تھا۔اتھارٹی نے اس معاملے میں مشتاق احمد اور ا ±س وقت کے پٹواری بشیر احمد کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت بھی دی تھی، جنہوں نے میوٹیشن ریکارڈ میں متعلقہ تفصیلات درج کی تھیں۔محکمانہ کارروائی کے دوران مشتاق احمد نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے اپنے نام سے منسوب دستخطوں کی صداقت پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے 28 فروری 2025 کو اپنا تحریری دفاع پیش کیا، تاہم حکام نے اسے غیر تسلی بخش قرار دیا۔ستمبر 2025 میں راج کمار، جے کے اے ایس، اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) جموں کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا۔ فروری 2026 میں پیش کی گئی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا کہ افسر کے انکار کو بلا تحقیق قبول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ متنازعہ دستخط دیگر ان میوٹیشنز پر موجود دستخطوں سے مماثلت رکھتے تھے جن کی تصدیق انہوں نے کی تھی۔انکوائری افسر نے نتیجہ اخذ کیا کہ مشتاق احمد سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران مکمل دیانت داری اور اصول پسندی برقرار رکھنے میں ناکام رہے، جس کے بعد متعلقہ سروس قواعد کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی۔حکم نامے کے مطابق، مجاز اتھارٹی نے جموں و کشمیر سول سروسز (درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل) قواعد 1956 کے قاعدہ 30 کے تحت انہیں سینسر کی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکم نامے میں مزید ہدایت دی گئی ہے کہ مشتاق احمد کے معاملے کو محکمانہ معطلی جائزہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ بحالی کے بعد انہیں تین سال تک کسی بھی فیلڈ پوسٹنگ پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔