سی آئی آئی اپیل کنکلیو میں جدید باغبانی ، سمارٹ فارمنگ اور عالمی منڈیوں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کی ضرور ت پر زور
سری نگر// وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ بارہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے آج جموں و کشمیر کی ’ایپل اِنڈسٹری‘ میں تکنیکی اِختراعات، جدید اور درست باغبانی کے طریقوں، سمارٹ فارمنگ اورمارکیٹوں تک بہتر رسائی کے ذریعے جامع تبدیلی لانے پر زور دیا تاکہ باغ مالکان اور کاشت کاروں کی آمدنی میں اِضافہ ہو اور ملکی و بین الاقوامی مارکیٹوں میں خطے کی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکے۔وزیر موصوف ریڈیسن کلیکشن ہوٹل سری نگر میں کنفیڈریشن آف اِنڈین اِنڈسٹری (سی آئی آئی) جموںوکشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ چھٹے سی آئی آئی جموں و کشمیر ایپل کنکلیو۔ 2026 سے خطاب کر رہے تھے۔’’آرچرڈ سے گلوبل مارکیٹ تک ‘کے عنوان سے منعقدہ کنکلیو میں مختلف شعبوں سے وابستہ اہم شخصیات اور شراکت داروںنے شرکت کی اور عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مسابقتی رُجحانات کے پیش نظر اپیل سیکٹر کو جدید خطوط پر اُستوار کرنے اور اس کی صلاحیتوں سے بھرپور اِستفادہ کرنے کی حکمت عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا۔اُنہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی باغبانی کی طرف بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے باغات کے اِنتظام و انصرام کے جدید طریقے اَپنانے، درست کاشت کاری کی تکنیکوں اورپیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے، مستقل معیار کو یقینی بنانے اور سیب کی کاشت کو زیادہ دیرپا اور معاشی طور پر فائدہ مند بنانے کے لئے سائنسی مداخلتوں کو اَپنانے کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی سیب معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اَپنانا ضروری ہے جس میں باغات کو جدید خطوط پر استوار کرنا، سائنسی طریقوں سے کاشت کاری، فصل کے بعد مؤثر اِنتظام، ویلیو ایڈیشن اور مضبوط مارکیٹنگ اِنفراسٹرکچر شامل ہیں ۔ اُنہوں نے سرکاری محکموں، صنعتی نمائندوں، زرعی سائنسدانوں اور کاشت کاروں کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیاتاکہ اُبھرتے ہوئے مواقع کو کسان کمیونٹی کے لئے عملی فوائد میں تبدیل کیا جا سکے۔ اُنہوںنے کہاکہ روایتی کاشت کے طریقوں سے جدید،مارکیٹ پر مبنی باغبانی کی طرف تبدیلی صارفین کی بڑھتی ہوئی توقعات اور بین الاقوامی معیار کے معیارات کو پورا کرنے کے لئے ضرورہے ہے ۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ بہتر گریڈینگ ، پیکیجنگ ، سٹوریج او رسپلائی چین کا مؤثر انتظام کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے، پیداوار کا معیار برقرار رکھنے اور کاشت کاروں کومارکیٹ میں بہتر قیمتیں حاصل کرنے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔
جاوید ڈار نے باغبانی شعبے کو مضبوط بنانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایپل ویلیو چین میں جدت،دیرپائی اور جدید ٹیکنالوجی کو اَپنانے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت، صنعت اور تحقیقی اِداروں کے درمیان قریبی تال میل موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے، مسابقت کو بہتر بنانے اور مارکیٹ کی توسیع کے لئے نئی راہیں کھولنے میں معاون ثابت ہوگی۔اُنہوں نے شراکت داروں کے درمیان مکالمے اور شراکت داری کے لئے ایک تعمیری پلیٹ فارم فراہم کرنے پر سی آئی آئی جموں و کشمیر کی کوششوں کو بھی سراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس نوعیت کے اَقدامات علم و تجربات کے تبادلے، سرمایہ کاری کی حوصلہ اَفزائی اور جموں و کشمیر کی ایپل اِنڈسٹری کی دیرپا ترقی کے لئے عملی حل تلاش کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔وائس چانسلر شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی آف کشمیر(سکاسٹ ۔کے) پروفیسر نذیر احمد گنائی نے کنکلیو میں مہمانِ ذِی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔اِس موقعہ پر محکمہ زراعت و باغبانی کے سینئر اَفسران اور سی آئی آئی کے نمائندے بھی موجود تھے۔










