dogs

کتوں کے کاٹنے واقعات ، جموں کشمیر میںدو سال میں 2 لاکھ 6 ہزار واقعات درج

110 ملازمین کی تعیناتی، ویٹرنری سرجن، پیرا ویٹرنری عملہ اور ڈاگ ہینڈلرس بھرتی کیے جائیں گے

سرینگر / این این بی // جموں و کشمیر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر قابو پانے کیلئے حکومت نے خصوصی ماہر ٹیموں کی بھرتی کا عمل شروع کرنے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی اسکریننگ و سلیکشن کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیمیں شہری بلدیاتی اداروں میں کتوں کی آبادی کو قابو میں رکھنے اور اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام کو مو ¿ثر طریقے سے نافذ کرنے کی ذمہ داری انجام دیں گی۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق محکمہ ہاو ¿سنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کی جانب سے جاری حکم نامے کے تحت جموں اسمارٹ سٹی لمیٹڈ اور سری نگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے تحت قائم ماہر اے بی سی یونٹس کے لیے ویٹرنری سرجنوں، پیرا ویٹرنری عملے اور کتوں کو پکڑنے والے تربیت یافتہ ہینڈلرز کے انتخاب کی خاطر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ بھرتی کا پورا عمل شفاف، غیر جانب دار، یکساں اور میرٹ کی بنیاد پر انجام دیا جائے گا۔ امیدواروں کی تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ اسناد کے ساتھ ساتھ ان کی عملی مہارت، طبی صلاحیت اور فیلڈ میں کام کرنے کی اہلیت کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔آوارہ کتوں کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 اور 2025 کے دوران پورے جموں و کشمیر میں کتوں کے کاٹنے کے مجموعی طور پر 206460واقعات درج کیے گئے۔دوسری جانب، سری نگر میونسپل کارپوریشن کی حدود میں سال 2023 کے دوران کیے گئے ایک سائنسی سروے میں آوارہ کتوں کی تعداد 64,416 بتائی گئی تھی۔ان اعداد و شمار کے تناظر میں حکومت کی جانب سے خصوصی ٹیموں کی تشکیل اور ان کے لیے ماہر عملے کی بھرتی کو آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔حکومتی حکم نامے کے مطابق، اسکریننگ و سلیکشن کمیٹی کی سربراہی محکمہ ہاو ¿سنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کے کمشنر/سیکریٹری کریں گے، جبکہ جموں اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو افسر کو کمیٹی کا ممبر سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔سرینگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو افسر، جموں اور سرینگر کے ڈائریکٹرز اینیمل ہسبنڈری اور اے بی سی پروگرام کے نوڈل افسر کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ منظور شدہ 100 نمبروں پر مشتمل انتخابی طریقہ کار کے مطابق بھرتی کا عمل مکمل کرے۔ اس طریقہ کار کے تحت ہر زمرے میں 50 نمبر امیدواروں کی طبی اور عملی صلاحیتوں کے جائزے کے لیے مختص ہوں گے۔ اس طرح امیدواروں کی اہلیت کا فیصلہ صرف تعلیمی اسناد یا کاغذی قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ عملی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔کمیٹی امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ رجسٹریشن، متعلقہ شعبے میں تجربے، اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام سے وابستہ عملی تجربے اور تسلیم شدہ تربیت کی تفصیلات کی تصدیق کرے گی۔حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر عملی امتحانات کے انعقاد کے لیے متعلقہ شعبے کے اہل ویٹرنری یا تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔عملی جانچ کے دوران تمام امیدواروں کے ساتھ یکساں اور غیر جانب دارانہ طریقہ کار اختیار کیا جائے گا، جبکہ ہر امیدوار کی کارکردگی سے متعلق الگ اسیسمنٹ شیٹ تیار کرکے محفوظ رکھی جائے گی تاکہ انتخابی عمل کا مکمل ریکارڈ موجود رہے۔حکومت نے کمیٹی کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ منظور شدہ انتخابی معیار سے ہٹ کر کسی امیدوار کو اضافی صوابدیدی نمبر نہ دیے جائیں اور بھرتی کے ہر مرحلے کی مناسب دستاویز بندی کی جائے۔کمیٹی امیدواروں کی جانب سے موصول ہونے والی نمائندگیوں یا اعتراضات پر غور کرنے کے بعد میرٹ لسٹ، منتخب امیدواروں کی فہرست اور ویٹنگ لسٹ کو حتمی شکل دے گی۔ بعد ازاں یہ فہرستیں منظوری کے لیے مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی۔حکم نامے کے مطابق، کمیٹی کو ویٹرنری سرجنوں کے لیے عملی امتحان میں کامیابی کے کم از کم نمبر مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ منتخب امیدوار اے بی سی پروگرام کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے ضروری عملی مہارت رکھتے ہوں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی امیدوار عملی امتحان میں مقررہ کم از کم معیار پر پورا نہیں اترتا تو دیگر زمروں میں حاصل کردہ نمبروں کے باوجود اسے انتخاب کے عمل میں کامیاب قرار نہیں دیا جائے گا۔حکومت نے کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ شفافیت، یکسانیت، غیر جانب داری اور مکمل ریکارڈ برقرار رکھتے ہوئے بھرتی کا عمل جلد از جلد مکمل کرے۔حکومت نے 19 ستمبر کو جاری کیے گئے ایک سابقہ حکم نامے کے تحت آوارہ کتوں کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 110 ملازمین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔منصوبے کے مطابق، جموں اسمارٹ سٹی لمیٹڈ اور سری نگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ، دونوں کے تحت 55، 55 ارکان پر مشتمل الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔اس طرح دونوں اسمارٹ سٹی کمپنیوں کے تحت مجموعی طور پر 10 ویٹرنری سرجن، 40 پیرا ویٹرنری اہلکار یا میڈیکل نرسیں اور 60 ڈاگ ہینڈلرز تعینات کیے جانے کا منصوبہ ہے۔حکومت کے منصوبے کے مطابق، ان ٹیموں کو صرف جموں اور سری نگر شہروں تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ ضرورت کے مطابق پورے جموں و کشمیر کے شہری بلدیاتی اداروں میں باری باری تعینات کیا جائے گا۔ عملے کی تعیناتی مقامی ضروریات اور آوارہ کتوں کے مسئلے کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔حکومت کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کو اس وسیع تر منصوبے کی جانب اگلا قدم سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ماہر عملے کی دستیابی کے ذریعے اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام کو مو ¿ثر بنانا اور آوارہ کتوں سے متعلق عوامی مسائل پر قابو پانے کی کوششوں کو مضبوط کرنا ہے۔