نئی دہلی/یو این آئی// کابینہ سکریٹری ڈاکٹر ٹی وی سومناتھن نے بحران کے بندوبست سے متعلق قومی کمیٹی اجلاس میں خلیج بنگال میں سمندری طوفان ‘ارنب’ کے پیش نظر تیاریوں کا جائزہ لیا ۔خدشہ ہے کہ یہ طوفان چہارشنبہ کی صبح آندھرا پردیش اور یانم ساحلوں کے درمیان شدید سمندری طوفان کی شکل میں ٹکرائے گا۔ اس دوران ہوا کی رفتار 115 تا 125 کیلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور 140 کیلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا اندازہ ہے ۔محکمہ موسمیات کے ڈائرکٹر جنرل نے بتایا کہ پیر کی صبح یہ سمندری طوفان خلیج بنگال کے وسطی مشرقی اور اس سے متصل وسطی مغربی حصے میں مرکوز تھا۔ اندازہ ہے کہ یہ منگل تک مغرب ۔ شمال مغرب اور اس شمال مغرب کی سمت آندھرا پردیش ساحل کی طرف بڑھے گا۔اس طوفان کا اثر تلنگانہ، جنوبی اوڈیشہ، جنوبی اور وسطی چھتیس گڑھ و مشرقی اتر پردیش اور بہار میں بھی پڑ سکتا ہے ۔ ان علاقوں میں شدید بارش کے خدشے کے پیش نظر مرکز نے متعلقہ ریاستوں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے ۔آندھرا پردیش، اوڈیشہ، تلنگانہ، چھتیس گڑھ و پڈوچیری کے افسران نے تیاریوں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ انتظامیہ نے راحتی کیمپوں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے انتظامات کیے ہیں۔ این ڈی آر ایف اور آفات سے نمٹنے والی فورس ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے ۔ اضلاع میں کنٹرول روم بھی فعال کر دیے گئے ہیں ۔ ماہی گیروں کو 29 اکتوبر تک جنوب مغربی اور اس سے متصل وسطی خلیج بنگال کے علاوہ آندھرا پردیش، اڈیشہ اور یانم کے ساحلوں کے قریب سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ۔ سمندر میں موجود ماہی گیر واپس لوٹ چکے ہیں۔ ہندوستانی کوسٹ گارڈ نے کئی جہازوں اور کشتیوں کو محفوظ گھاٹوں اور ساحل تک پہنچایا ہے ۔ این ڈی آر ایف نے ٹیمیں تعینات کر دی ہیں اور اضافی ٹیموں کو بھی تیار رکھا ہے ۔ فوج، بحریہ، فضائیہ اور کوسٹ گارڈ کی امدادی و بچاؤ ٹیمیں، جہاز اور طیارے تیار ہیں۔ وزارت داخلہ، قومی آفات انتظامی اتھارٹی و محکمہ موسمیات صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔










