تہران/قاہرہ: ایران اور اس کے علاقائی مخالفین کے درمیان جاری جنگ اور بڑھتی کشیدگی کے دوران ایرانی پارلیمنٹ نے مہرداد اخلاقی کتابچی کو ملک کا نیا وزیر دفاع مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب مصر کی پارلیمنٹ نے حوثی حملوں کے خلاف سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کے معاملے پر ووٹنگ پیر، 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔ یہ دونوں پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بدلتی ہوئی دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔ بی بی سی فارسی کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوران مہرداد اخلاقی کتابچی کو 237 ووٹ ملے، جس کے بعد انہیں نیا وزیر دفاع مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ وہ سابق وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ کی جگہ لیں گے، جو حالیہ جنگ کے دوران جان بحق ہونے والے سینئر فوجی عہدیداروں میں شامل تھے۔
صدر مسعود پزشکیان نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتابچی کو ایران کے دفاعی اور ایرو اسپیس پروگراموں میں چار دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔ ان کے مطابق، کتابچی نے ایران کے میزائل اور دفاعی پروگراموں سے وابستہ کئی اہم سائنس دانوں اور فوجی عہدیداروں کے ساتھ کام کیا ہے۔
صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی جانب سے کتابچی پر عائد پابندیاں ان کے کردار اور صلاحیتوں کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ عوامی سطح پر نسبتاً کم معروف ہونے کے باوجود کتابچی طویل عرصے سے ایران کی دفاعی صنعت سے وابستہ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ کے بعد ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے اس کے مخالفین کے فوجی اندازے تبدیل ہوئے ہیں۔ نئے وزیر دفاع نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں اور کروز میزائلوں سمیت میزائل صلاحیتوں کو ترقی دینے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایران کا پہلا مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ بھاری جنگی طیارہ اگلے سال پرواز کر سکتا ہے۔










