سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے کی شہریوں کیلئے ہنگامی ایڈوائزری جاری
سرینگر / این این بی // حوثی حملوں کے بعد سیکورٹی خدشات میں اضافہ کے بعد سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے کی شہریوں کیلئے ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں کو سعودی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے، محفوظ مقامات پر پناہ لینے اور خطرہ ٹلنے تک گھروں سے باہر نہ نکلنے کی تاکید کی ہے ۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق سعودی عرب میں سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر ریاض میں قائم ہندوستانی سفارت خانے نے وہاں مقیم ہندوستانی شہریوں کے لیے ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ ایڈوائزری ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کے درمیان سامنے آئی ہے۔ہندوستانی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے جاری ہونے والے ہنگامی انتباہات اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں گھبرانے کے بجائے پرسکون رہیں اور اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔سعودی حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے شیئر کی گئی حفاظتی ہدایات میں شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہنگامی انتباہ موصول ہونے کی صورت میں فوری طور پر کسی قریبی عمارت کے اندر محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ہدایات کے مطابق عمارت کے اندر ایسا کمرہ منتخب کیا جائے جو کھڑکیوں سے دور ہو اور جہاں ممکنہ خطرات سے نسبتاً زیادہ تحفظ حاصل ہو سکے۔ شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ خطرہ مکمل طور پر ٹلنے تک محفوظ مقام پر ہی رہیں اور حکام کی جانب سے مزید ہدایات کا انتظار کریں۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے دوران کھلی جگہوں، کھڑکیوں اور شیشوں سے دور رہنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بالکونیوں اور چھتوں پر کھڑے ہونے سے بھی گریز کیا جائے، کیونکہ ایسے مقامات پر موجودگی شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔سعودی حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک ہنگامی خطرہ ختم ہونے کی تصدیق نہ ہو جائے، وہ اپنے گھروں یا دیگر محفوظ عمارتوں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ہدایات کے مطابق شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے بچنے اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ انتباہات پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں افواہوں پر توجہ دینے کے بجائے مستند سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ شہری ایسے مقامات سے دور رہیں جہاں خطرات کا امکان ہو، جبکہ بھیڑ والے علاقوں میں جانے سے بھی گریز کیا جائے۔ہنگامی انتباہ جاری ہونے کے وقت اگر کوئی شخص گھر یا عمارت سے باہر موجود ہو تو اسے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر کسی قریبی عمارت میں پناہ حاصل کرے۔ اگر عمارت تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو کسی مضبوط اور ٹھوس رکاوٹ کے پیچھے محفوظ جگہ تلاش کرنے کی کوشش کرے۔ہدایات میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ حملوں یا کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران تصاویر یا ویڈیوز بنانے میں وقت ضائع نہ کریں اور نہ ہی خطرناک مقامات کے قریب جانے کی کوشش کریں۔حفاظتی اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں کو ممکنہ خطرات سے دور رکھنا اور ہنگامی حالات میں غیر ضروری نقل و حرکت کو کم کرنا ہے۔سعودی حکام کی ہدایات میں ان افراد کے لیے بھی احتیاطی تدابیر شامل ہیں جنہیں گاڑی چلاتے ہوئے ہنگامی انتباہ موصول ہو۔ایسے ڈرائیوروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ محفوظ طریقے سے گاڑی سڑک کے کنارے روکیں اور پلوں، بلند عمارتوں اور دیگر ممکنہ خطرے والے مقامات سے دور رہیں۔ انہیں اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی محفوظ مقام پر پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔حکام کے مطابق ہنگامی صورتحال میں جلد بازی یا غیر ضروری نقل و حرکت خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے، اس لیے ڈرائیوروں کو احتیاط سے کام لینے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری سعودی عرب میں مقیم ہندوستانی شہریوں کو ہنگامی حالات کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین حفاظتی ہدایات سے باخبر رہیں، محفوظ مقامات پر رہیں اور خطرہ ٹلنے تک غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔حوثی باغیوں کے حملوں کے تناظر میں جاری کی گئی یہ ہدایات شہریوں کی حفاظت اور ہنگامی حالات میں ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے احتیاطی اقدامات کا حصہ ہیں۔ ہندوستانی شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنی سلامتی کو ترجیح دیں۔










