جموں و کشمیر میں 2000 سے اب تک برف سے ڈھکے علاقوں میں 31 فیصد سے زائد کمی
سرینگر / این این بی // جموں و کشمیر میں برفباری اور بارش کے بدلتے ہوئے رجحانات نے مستقبل میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں پر سردیوں کے دوران جمع ہونے والی برف گرمیوں میں پگھل کر دریاو ¿ں، ندی نالوں اور چشموں کو پانی فراہم کرتی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں برف سے ڈھکے علاقوں میں نمایاں کمی اور سردیوں کے دوران معمول سے کم بارش و برف باری کے باعث خطے کے قدرتی آبی نظام پر دباو ¿ بڑھنے کے خدشات سامنے آئے ہیں ۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی ایک تحقیق جو 2025 میں سائنسی جریدے میں شائع ہوئی، کے مطابق جموں و کشمیر میں برف سے ڈھکا ہوا رقبہ سال 2000 میں 22261مربع کلومیٹر تھا، جو 2024 میں کم ہو کر 15275مربع کلومیٹر رہ گیا۔ اس طرح تقریباً 6885مربع کلومیٹر رقبے میں کمی ریکارڈ کی گئی، جو مجموعی طور پر تقریباً 31.4 فیصد بنتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار خطے میں برف کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، کیونکہ پہاڑوں پر جمع ہونے والی برف قدرتی ذخیرہ آب کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے پگھلنے سے موسم بہار اور گرمیوں کے دوران پانی کی فراہمی برقرار رہتی ہے۔جموں و کشمیر میں مسلسل سات سردیوں کے دوران معمول سے کم بارش اور برف باری کے رجحان نے صورتحال کو مزید تشویش ناک بنا دیا ہے۔ آزاد موسمی تجزیہ کار فیضان عارف کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک جاری رہنے والے بنیادی سرمائی موسم میں خطے میں معمول سے تقریباً 65 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 100.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ معمول کے مطابق یہ مقدار 284.9 ملی میٹر ہونی چاہیے تھی۔فروری 2026 کے دوران صورتحال مزید سنگین رہی۔ اس مہینے میں صرف 14.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ معمول کی مقدار 130.4 ملی میٹر تھی۔ اس طرح فروری میں بارش کی کمی تقریباً 89 فیصد رہی۔ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق کشتواڑ میں بارش کی کمی 90 فیصد، شوپیاں میں 82 فیصد، جبکہ سری نگر اور جموں میں 64، 64 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران بارش اور برف باری میں کمی کا اثر صرف فوری موسمی حالات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات اگلے موسم بہار اور گرمیوں میں پانی کی دستیابی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔موسمی تجزیہ کار فیضان عارف کے مطابق دسمبر میں بارش اور برفباری کی شدید کمی، جنوری میں معمول سے کم ترسیب اور فروری میں تقریباً 89 فیصد خسارے نے پہاڑی علاقوں میں برف کی تہہ بننے کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ان کے مطابق سردیوں کے دوران برف جمع ہونے کا عرصہ کمزور پڑنے سے قدرتی ذخیرہ آب کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ موسم بہار اور گرمیوں میں جب زراعت، باغبانی اور گھریلو ضروریات کے لیے پانی کی مانگ بڑھتی ہے، اس وقت پانی کی فراہمی پر اضافی دباو ¿ پیدا ہو۔ماہرین کے مطابق موسمی صورتحال کا جائزہ لیتے وقت صرف پورے موسم میں ہونے والی بارش کی مجموعی مقدار کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ بارش اور برف باری کس وقت ہوئی، برف کتنی مقدار میں جمع ہوئی اور وہ کتنے عرصے تک پہاڑوں پر برقرار رہی۔بارش اور برفباری کے درمیان طویل خشک وقفے بھی آبی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں، کیونکہ قدرتی ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے مناسب وقت اور موسمی حالات ضروری ہوتے ہیں۔ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر توصیف احمد بٹ نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے قدرتی ماحول کی تباہی اور ماحولیاتی نظام کے کمزور ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ان کے مطابق جنگلات کی تباہی، آبی علاقوں اور دلدلی زمینوں کا سکڑنا اور پہاڑی علاقوں میں غیر منصوبہ بند تعمیرات ایسے عوامل ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید شدید بنا سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جنگلات، دلدلی علاقے، قدرتی چشمے اور پہاڑی آبی ذخائر بارش کے پانی کو جذب کرنے، اسے محفوظ رکھنے اور بتدریج دریاو ¿ں اور زیر زمین پانی تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب یہ قدرتی نظام متاثر ہوتے ہیں تو پانی کے بہاو ¿ میں بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے۔ایسے حالات میں معمول کی بارش بھی بعض مقامات پر سیلاب، زمین کے کٹاو ¿ اور دیگر قدرتی آفات کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً وہاں جہاں قدرتی نکاسی آب کے راستے، جنگلات اور دلدلی علاقے متاثر ہو چکے ہوں۔لداخ کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے برف باری کے رجحانات سے متعلق کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے طویل مدتی موسمی ریکارڈ کا تجزیہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کے مطابق گزشتہ 43 برسوں کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض برسوں میں برف باری کی مقدار موجودہ موسم سرما سے بھی کم رہی ہے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ایک موسم یا چند برسوں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر پورے خطے میں برف باری کے طویل مدتی رجحانات کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ماہرین کے مطابق ان تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے بارش، برف باری، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور زمین کے استعمال میں تبدیلیوں کے باہمی اثرات کو سمجھنا ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں پانی کی دستیابی سے متعلق بہتر پیش گوئی کی جا سکے۔کشمیر میں پانی کی دستیابی کا معاملہ صرف دریاو ¿ں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا براہ راست تعلق زراعت، سیب کے باغات، دھان کی کاشت، زیر زمین پانی اور قدرتی چشموں سے بھی ہے۔اگر پہاڑوں پر برف کم جمع ہو یا معمول سے پہلے پگھل جائے تو دریاو ¿ں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاو ¿ کا موسمی نظام تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس سے بعض اوقات موسم بہار میں پانی کی مقدار بڑھنے، جبکہ گرمیوں کے دوران پانی کی دستیابی میں کمی کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح طویل خشک وقفے قدرتی چشموں کے بہاو ¿ اور زیر زمین پانی کے ذخائر کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی، باغبانی اور زرعی سرگرمیوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔دوسری جانب شدید بارش کے مختصر دورانیے قدرتی آبی ذخائر کو مناسب طور پر بھرنے کے بجائے سیلاب، مٹی کے کٹاو ¿ اور پانی کے تیز بہاو ¿ کا باعث بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی آبی راستے متاثر ہوئے ہوں۔ماہرین نے جموں و کشمیر میں پانی کی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے اور مستقبل کے خطرات کا بروقت اندازہ لگانے کے لیے ایک مربوط نگرانی کا نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کے مطابق اس نظام میں سیٹلائٹ کے ذریعے برف سے ڈھکے علاقوں کی نگرانی، برف باری کے ریکارڈ، گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں، قدرتی چشموں کے بہاو ¿ اور دریاو ¿ں میں پانی کی مقدار سے متعلق اعداد و شمار کو یکجا کیا جانا چاہیے۔اس طرح مختلف محکموں اور تحقیقی اداروں کو پانی کی دستیابی میں ہونے والی تبدیلیوں کا بروقت اندازہ لگانے اور ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات کا تحفظ، دلدلی علاقوں کی بحالی، قدرتی چشموں کی حفاظت اور پہاڑی آبی ذخائر کے گرد غیر منصوبہ بند تعمیرات پر قابو پانا بھی اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔










