omar_abdullah_dooran

جموں و کشمیر پہاڑی ترقیاتی پالیسی اپنانے والا پہلا ہمالیائی خطہ بننے کا خواہاں

پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے تیار ،پہاڑی علاقوں کی پائیدار ترقی محض ایک ترجیح نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ/ عمر عبداللہ

سرینگر/ / یو این ایس / جموں و کشمیر حکومت ’پہاڑی ترقیاتی پالیسی‘ اپنانے کی خواہاں ہے اور اس سلسلے میں جموں و کشمیر کو پہلا ہمالیائی خطہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اس پالیسی کو مرتب کرتے وقت اسے الگ تھلگ انداز میں تیار نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ نے SKUAST-K میں منعقدہ 13ویں پائیدار پہاڑی ترقیاتی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر پہلا ہمالیائی خطہ بننا چاہتا ہے جہاں ’پہاڑی ترقیاتی پالیسی‘ نافذ کی جائے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اس پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ پالیسی کسی ایک سطح پر یا الگ تھلگ طریقے سے تیار نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقوں کی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ حلقوں کی شمولیت ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت کے بارے میں ملک کے دیگر حصوں میں یہ غلط تاثر پایا جاتا ہے کہ یہاں کی معیشت بنیادی طور پر سیاحت پر منحصر ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زراعت اور باغبانی کا معیشت میں سیاحت کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے ماحولیات کا تحفظ اور پہاڑی علاقوں کی پائیدار ترقی محض ایک ترجیح نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اکیلے ماحولیات کا تحفظ نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسئلے سے بھی کسی ایک خطے یا ملک کی جانب سے تنہا نہیں نمٹا جا سکتا۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ماحولیات کا تحفظ ہے، تاہم شہریوں کو بھی قدرتی وسائل کا استعمال احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ کرنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمیر میں بارشوں میں کمی اور برف باری کے معمول میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بادل پھٹنے کے غیر معمولی واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نئی حقیقت ہے جس کے ساتھ اب ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ترقی بھی ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بدلتے موسمی حالات میں لوگوں کے روزگار اور ذریعہ معاش کو کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کے اندر بعض اوقات سیاحوں کی تعداد محدود کرنے پر بات ہوتی ہے، لیکن عملی طور پر ایسا کرنا آسان نہیں کیونکہ جموں و کشمیر کے بہت سے خاندان سیاحت کے شعبے پر منحصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ بعض سیاحتی مقامات کی گنجائش محدود ہے اور ان علاقوں میں سیاحت کے دباو ¿ کو کم کرنے کے لیے سیاحتی سرگرمیوں کو دیگر علاقوں تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ سیاحت کی وجہ سے ماحول پر دباو ¿ بڑھتا ہے، تاہم ماحولیات سے متعلق تمام مسائل کا ذمہ دار صرف سیاحوں یا یاتریوں کو قرار دینا درست نہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاحوں پر انگلی اٹھانے سے پہلے جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی اپنا کردار دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ ہم خود پلاسٹک کے تھیلوں اور دیگر ماحول دشمن اشیا کا کتنا استعمال کر رہے ہیں۔ ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری صرف حکومت یا سیاحوں کی نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔