جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس انٹرنز

19اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا انتباہ

سرینگر/ / یو این ایس / جموں و کشمیر بھر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے ماہانہ وظیفے میں اضافے کا حکم جاری نہ ہونے کی صورت میں 19 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔انٹرنز کے نمائندوں نے پیر کو سول سیکریٹریٹ میں وزیر صحت سکینہ ایتو سے ملاقات کے دوران اپنا فیصلہ ان کے سامنے رکھا۔ انٹرنز کے مطابق حکومت کی جانب سے پہلے دیا گیا تحریری یقین دہانی کا وعدہ 9 اکتوبر کو ختم ہو چکا ہے۔انٹرنز کے نمائندوں کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر صحت نے انہیں بتایا کہ انتظامی وجوہات، جن میں سیکریٹری کی تبدیلی اور اسمبلی اجلاس کا انعقاد شامل ہے، کی وجہ سے وظیفے میں اضافے کا حکم جاری کرنے میں تاخیر ہوئی۔ تاہم انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ اس سلسلے میں حکم رواں ہفتے کے اندر جاری کر دیا جائے گ۔انٹرنز نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو اپنے مطالبے پر کارروائی کے لیے کافی وقت دیا ہے اور اگر تازہ مقرر کردہ مدت کے اندر بھی حکم جاری نہ کیا گیا تو ان کے پاس احتجاج دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز موجودہ ماہانہ وظیفہ 12 ہزار 300 روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ وظیفہ 2019 سے تبدیل نہیں کیا گیا، جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں انٹرنز کو اس کے مقابلے میں زیادہ ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے۔آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری اور جموں و کشمیر کے انٹرنز کے نمائندے ڈاکٹر محمد عاقب جاوید نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی تازہ یقین دہانی کو رواں ہفتے کے اختتام تک وقت دیا جائے گا۔انٹرنز کے نمائندوں نے کہا کہ مقررہ مدت کے اندر حکومت کی جانب سے حکم جاری نہ ہونے سے اس کی یقین دہانیوں پر اعتماد کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب معاملہ صرف وظیفے میں اضافے تک محدود نہیں رہا بلکہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی جواب دہی کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔انٹرنز نے واضح کیا کہ اگر حکومت رواں ہفتے کے اندر وظیفے میں اضافے کا باضابطہ حکم جاری نہیں کرتی تو وہ 19 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔