کہا جموں و کشمیر کی بقاء پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور لوگوں کے روز گار کی حفاظت پر منحصر ہے
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سسٹین ایبل ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کیلئے ایک عملی اور متوازن نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ ، معاشی ترقی اور لوگوں کے روز گار کو ایک ساتھ آگے بڑھانا چاہئیے ۔ وزیر اعلیٰ سکاسٹ کشمیر اور انٹی گریٹڈ ماؤنٹین انیشی ایٹو کے مشترکہ اہتمام پر جموں و کشمیر سائنس ، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کونسل ( جے کے ایس ٹی آئی سی ) کے تعاون سے منعقدہ تیرہویں سسٹین ایبل ماؤنٹین ڈیولپمنٹ سمٹ کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے ۔ یہ سمٹ جموں و کشمیر ایگریکلچر سائنس کانگریس 2026 کے تحت منعقد ہوئی ہے ، جس کا موضوع وکست بھارت کیلئے پائیدار ہمالیائی مناظر اور جموں و کشمیر کیلئے سسٹین ایبل ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کی پالیسی تیار کرنا ہے ۔ جموں و کشمیر کے نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ، بے ترتیب برفباری ، پانی کی کمی ، شدید بارشیں اور لینڈ سلائیڈز جموں و کشمیر کو تیزی سے متاثر کر رہی ہیں ، جس کی وجہ سے اس کے طویل مدتی بقاء کیلئے پائیدار ترقی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہم اپنے پہاڑوں اور اپنے ماحول کا اتنا خیال نہیں رکھتے جتنا ہمیں رکھنا چاہئیے ۔ ہم اکیلے گلوبل وارمنگ کو نہیں روک سکتے اور نہ ہی اسے الٹ سکتے ہیں ۔ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے پوری دنیا کو اکٹھا ہونا پڑے گا ۔ لیکن ہم یقیناً اپنے اپنے ماحول کا بہتر خیال رکھ سکتے ہیں ۔ ‘‘ موسمیاتی نمونوں میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برفباری تیزی سے بے ترتیب ہو گئی ہے ، کم برفباری اور سردیوں کی تاخیر سے ہونے والی بارش بہار کے مہینوں میں پانی کی کمی کا باعث بن رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طویل خشک موسم کے بعد اکثر شدید بارشیں ، کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب آتے ہیں ، جو کمیونٹیز اور بنیادی ڈھانچے کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چیلنج یہ ہے کہ جموں و کشمیر کس طرح بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے ترقی جاری رکھ دکتا ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہو گا : ہم اپنی روزی روٹی کو کس طرح برقرار رکھیں اور ہم کیسے ترقی کریں ؟ ترقی ضروری ہے ، لیکن یہ پائیدار ہونی چاہئیے ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے سیاحت کو ماحولیاتی انحطاط کی واحد وجہ سمجھنے سے گریز کرنے کی تلقین کی ، جبکہ انہوں نے مقبول مقامات پر بڑھتی ہوئی سیاحوں کی تعداد کو دباؤ کو تسلیم کیا ۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی ذمہ داری حکومت ، رہائشیوں ، کاروباریوں اور زائرین سب کو مشترکہ طور پر اٹھانی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا ’’ سیاحت ہمارے ماحول پر دباؤ ضرور ڈالتی ہے ، لیکن یہ فرض کر لینا کہ صورتحال صرف سیاحت یا سیاحوں کی وجہ سے خراب ہے ، بھی غلط ہو گا ۔ ہمیں خود بھی کچھ ذمہ داری اٹھانی ہو گی ۔ ‘‘ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کوڑا پھیلانے سے گریز کریں ، ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کا استعمال کم کریں اور پانی و توانائی کی بچت کریں ۔ انہوں نے روز مرہ کی عادتوں میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اکثر عوامی مقامات پر پلاسٹک کے ریپر اور بوتلیں پھینک دیتے ہیں اور حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کے پیچھے صفائی کرے گی ۔ اگرچہ انہوں نے ماحولیاتی انتظام کی بنیادی ذمہ داری حکومت کی تسلیم کی لیکن اس بات پر بھی زور دیا کہ قدرتی ماحول کے تحفظ میں انفرادی اقدامات بھی انتہائی اہم ہیں ۔
سیاحتی ترقی کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ گلمرگ ، پہلگام اور سونہ مرگ جیسے قائم شدہ مقامات پر سیاحوں کی آمد کو اچانک محدود کر دیا جائے ، جہاں لوگوں کی روزی روٹی کا ایک بڑا حصہ سیاحت پر منحصر ہے ۔ اس کے بجائے انہوں نے سیاحت کی نئی منازل کو منصوبہ بند اور پائیدار طریقے سے ترقی دینے کی وکالت کی ، جہاں شروع سے ہی سیوریج ٹریٹمنٹ ، گندے پانی کے انتظام اور ٹھوس فضلہ کے نکاسی کے مناسب انتظامات موجود ہوں ۔ انہوں نے کہا ’’ ہمارے کچھ مقامات کی برداشت کی صلاحیت کافی نہیں ہے ۔ ہمیں سیاحت کو وسیع کرنا ہے ، لوگوں کو گلمرگ ، پہلگام یا سونہ مرگ جانے سے روکنا نہیں بلکہ نئی اور پائیدار منزل گاہیں تیار کرنی ہیں جہاں فضلہ اور سیوریج کے نکاسی کے نظام پہلے سے تیار ہوں ۔ ‘‘ ماحول دوست انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ خاص طور پر جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کے دوران پہاڑوں کی غیر سائنسی کٹائی نے لینڈ سلائیڈز اور سڑکوں کو بار بار نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سڑک تعمیر کرنے والے ادارے اکثر پہاڑی ڈھلوانوں کو بے دریغ کاٹتے ہیں بغیر اس بات کا خاطر خواہ خیال کئے کہ ڈھلوان کو مستحکم کیا جائے اور مناسب زاویے سے کاٹا جائے ۔ اگرچہ اس طرح کے طریقوں سے ابتدائی تعمیراتی اخراجات کم ہو سکتے ہیں ، لیکن بارش کے دوران ہونے والا نقصان اکثر دوبارہ تعمیر کی ضرورت پیدا کرتا ہے ، جس سے وہ وسائل ضائع ہوتے ہیں جو نئی سڑکیں بنانے کیلئے استعمال ہو سکتے تھے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے جنگلات اور ماحولیات کے محکمے اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مل کر کام کریں تا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مائیدار انجینئرنگ کے طریقے شامل کئے جائیں اور لینڈ سلائیڈز کے خطرے کو کم کیا جا سکے ۔ شہری ترقی اور رہائش کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے توانائی کی بچت کرنے والی اور زلزلہ مزاحم عمارتوں پر زیادہ توجہ دینے کے ساتھ ساتھ زمین کے زیادہ موثر استعمال پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں زمین کی قلت بڑھتی جا رہی ہے اس لئے منصوبہ سازوں کو جہاں مناسب ہو عمودی ترقی پر غور کرنا چاہئیے نہ کہ مسلسل افقی پھیلاؤ پر ، جبکہ زلزلی حفاظتی تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنایا جائے ۔ ماضی کے قدرتی آفات بشمول 2014 کے سیلاب اور 2005 میں خطے کو متاثر کرنے والے زلزلے کی تباہی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے مستقبل کی تعمیرات میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت شامل کرنے اور موجودہ عمارتوں کی مرمت کیلئے کم لاگت کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔
وزیر اعلیٰ نے علاقے میں گلیشئیرز کے واضح طور پر پگلنے کا بھی ذکر کیا اور یاد دلایا کہ سونہ مرگ کے قریب گلیشئیر کبھی میدانی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا ۔ آج نوجوان نسلوں کو گلیشئیر تک پہنچنے کیلئے کافی زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں موجودہ نسل کی ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہیں کہ وہ علاقے کے قدرتی ورثے کی حفاظت کرے اور اسے ان کیلئے محفوظ رکھے جو اسے وراثت میں پائیں گے ۔ انہوں نے کہا ’’ یہی ہے جو آنے والی نسلوں کا حق ہے ۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے اس کی حفاظت کریں ، جو کچھ ممکن ہو اسے بحال کریں اور یقینی بنائیں کہ ہم انہیں مزید کوئی نقصان نہ پہنچائیں ، ساتھ ہی لوگوں کے روز گار کی بھی حفاظت ہو ۔ ‘‘ مسٹر عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی معیشت میں زراعت اور باغبانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی معاشی بنیادیں اکثر ان لوگوں کی طرف سے غلط سمجھی جاتی ہیں جو سیاحت کو اس کی بنیادی آمدن کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ زراعت اور باغبانی سیاحت کے مقابلے میں معیشت میں کافی زیادہ حصہ ڈالتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے ماحول کا تحفظ اور سسٹین ایبل ماؤنٹین ڈیولپمنٹ صرف تحفظ کے مقاصد نہیں بلکہ خطے کی معاشی سلامتی ، روز گار اور طویل المدتی خوشحالی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ تین روزہ سمٹ علمی بحثوں سے آگے بڑھ کر ٹھوس سفارشات پیش کرے گی جنہیں موثر پالیسیوں اور عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پہلا ہمالیائی علاقہ بننے کا خواہشمند ہے جس کی اپنی پہاڑی پالیسی ہو اور ان کی حکومت اس اقدام کو آگے بڑھانے کیلئے پُر جوش ہے ۔ تا ہم انہوں نے زور دیا کہ پالیسی وسیع تر مشاورت سے ابھرنی چاہئیے اور علاقے کی حقیقتوں کی عکاسی کرنی چاہئیے نہ کہ مثالی مفروضوں پر مبنی ہو ۔ انہوں نے کہا ’’ ان سفارشات کو حقیقت پر مبنی ہونا چاہئیے ۔ ہمیں پائیداری کی ضرورت کو وجود اور روز گار کی ضرورت کے ساتھ متوازن کرنا ہو گا ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے ان مندوبین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا جو سمٹ میں شرکت کیلئے ملک کے مختلف حصوں سے آئے تھے اور کہا کہ وہ ان کی سفارشات کے منتظر رہیں گے ۔ انہوں نے کہا ’’ میں اس نکتے پر جتنا زور دے سکتا ہوں اتنا کم ہے ۔ عمل پذیر آدانوں اور عملی اقدامات کے ذریعے پائیدار ترقی ہی وہ چیز ہے جو میں امید کرتا ہوں کہ یہ سمٹ فراہم کرے گی ۔ ‘‘ انہوں نے شرکاء کو ان کی غور و فکر میں کامیابی کی خواہش کی ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے سمٹ کیلئے تیار کردہ کئی اشاعتیں بھی جاری کیں ۔ اس موقع پر وزیر زراعت مسٹر جاوید احمد ڈار ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، کمشنر سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ، وائس چانسلر ایس کے یو اے ایس ٹی کشمیر ، صدر انٹی گریٹڈ ماؤنٹین انیشی ایٹو ، سابق صدر آئی ایم آئی ، کونسلر انٹی گریٹڈ ماؤنٹین انیشی ایٹو ، 11 پہاڑی ریاستوں کے مندوبین ، این جی اوز کے نمائندے ، فیکلٹی ممبران ، اسکالرز ، طلباء اور دیگر متعلقہ افراد موجود تھے ۔










