سری نگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ’سب آرڈی نیٹ لیجسلیشن کمیٹی نے اپنے چیئرمین مظفر اقبال خان کی صدارت میں آج جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کے میٹنگ ہال سری نگر میں ایک میٹنگ منعقد کی جس میں محکمہ صحت و طبی تعلیم اور دیگر متعلقہ امور سے متعلق بھرتی قواعد کی تیاری اور حتمی شکل دینے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں کمیٹی کے اراکین اور قانون ساز اسمبلی کے اَرکان ہلال اکبر لون، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، بھرت بھوشن، شیخ خورشید اور پیرزادہ فیروز احمد نے شرکت کی۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری اے آر آئی و ٹریننگ شبنم کاملی، کمشنر سیکرٹری قانون، اِنصاف و پارلیمانی امور اچل سیٹھی کے علاوہ متعلقہ محکموں اوراِداروں کے سینئر اَفسران اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران بھی موجود تھے۔میٹنگ کے شروعات میں چیئرمین نے بھرتی قواعد کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قواعد کی تیاری میں طویل تاخیر سے اِداروں کے کام کاج اور ملازمین کے سروس مفادات پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ متعلقہ محکموں کو اس معاملے کو ترجیح دینی چاہیے اور مقررہ کارروائی جلد از جلد مکمل کرنی چاہیے۔کمشنر سیکرٹری محکمہ اے آر آئی و ٹریننگ نے کمیٹی کو بتایا کہ بھرتی قواعد کے مسودے پر کام جاری ہے اور محکمہ خزانہ کی منظوری حاصل ہونے کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔دورانِ میٹنگ چیئرمین نے اِس بات پر زور دیا کہ ہر ادارے کے لئے الگ الگ قواعد اَپنانے کے بجائے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے لئے یکساں یا’ماڈل‘ بھرتی کے قواعد وضع کئے جائیں بالخصوص ان صورتوں میں جہاں اَسامیاں، تقاضے اور بھرتی کے طریقہ کار کافی حد تک یکساں ہوں۔اس سلسلے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ اے آر آئی و ٹریننگ محکمہ نے تمام میڈیکل،ڈینٹل کالجوں کے لئے ماڈل بھرتی قواعد تیار کرنے کے لئے پہلے ہی ایک فارمیٹ محکمہ صحت و طبی تعلیم کے ساتھ اِشترک کیاہے۔کمیٹی نے بھرتی قواعد کو حتمی شکل دینے میں ہونے والی تاخیر پر تشویش کا اِظہار کیا اوراِس بات پر زور دیا کہ اس عمل کو اعلیٰ ترین ترجیح دی جانی چاہیے۔ کمیٹی نے خاص طور پر اس بات کو اُجاگر کیا کہ اس معاملے کا براہِ راست تعلق صحت کے اداروں اور ملازمین کے کیریئر کے امکانات اور ملازمت سے وابستہ مفادات سے ہے۔کمیٹی نے آئندہ میٹنگ میں جی اے ڈی اور محکمہ خزانہ کے اِنتظامی سیکرٹری اور چیئرمین ایس ایس بی کو بھی طلب کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ محکمے کو درپیش تعطل اور دیگر مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھرتی قواعد جلد از جلد وضع کئے جا سکیں۔










