s jai shankar

سرحد پار دہشت گردی کے خدشات بھارت امریکا تعلقات متاثر ہونے کی وجہ ہیں:وزیرخارجہ جے شنکر

سرینگر/ / یو این ایس / بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک سے پیدا ہونے والی دہشت گردی بھارت کے لیے ایک اہم تشویش ہے اور اگر بھارت کے شراکت دار اس مسئلے کی حساسیت اور اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتے تو اس کا اثر دو طرفہ تعلقات پر بھی پڑتا ہے۔جے شنکر نے یہ بات ایشیا سوسائٹی میں منعقدہ ایک خصوصی گفتگو کے دوران کہی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے اختتام پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں بھارتی نڑاد امریکی برادری، تارکین وطن اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی۔گفتگو کی میزبانی سابق امریکی سفارت کار اور ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ممتاز فیلو ڈینیئل رسل نے کی۔ اس موقع پر جے شنکر سے بھارت اور امریکا کے تعلقات، گزشتہ ایک سال کے دوران تجارت اور محصولات سے متعلق اختلافات اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر سمت میں لے جانے کے لیے ضروری اقدامات کے بارے میں سوال کیا گیا۔بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک کے امریکا کے ساتھ تعلقات گزشتہ عرصے کے دوران مشکل رہے ہیں، تاہم بھارت کے لیے اپنے پڑوسی ملک سے دہشت گردی کا مسئلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ان ممالک میں شامل ہے جنہیں کئی دہائیوں سے اپنے پڑوسی ملک کی جانب سے مبینہ طور پر دانستہ اور منظم دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔
جے شنکر نے واضح طور پر پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا معاملہ بھارت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔جے شنکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ کچھ عرصے کے دوران امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں قربت دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کی اپنی حساسیت اور ترجیحات ہوتی ہیں اور بھارت کے لیے دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے اس کے شراکت داروں کی جانب سے پوری طرح سمجھا جانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی شراکت دار کو کسی مسئلے کی اہمیت کا مناسب اندازہ نہ ہو تو اس کا اثر دو طرفہ تعلقات پر پڑنا فطری ہے۔گزشتہ عرصے کے دوران بھارت اور امریکا کے تعلقات میں تجارت، محصولات، روس سے بھارتی توانائی درآمدات اور واشنگٹن کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں سمیت مختلف معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔
مئی 2025میں بھارت نے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ”آپریشن سندور“ شروع کیا تھا، جس میں بھارت کے مطابق پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ پہلگام حملے میں 26 شہری، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، ہلاک ہوئے تھے۔
بھارت نے اس حملے کی ذمہ داری دی ریزسٹنس فرنٹ پر عائد کی تھی اور اسے لشکر طیبہ سے منسلک قرار دیا تھا۔اس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تنازع ختم کرانے میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا۔ بھارت نے مسلسل کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی تردید کی ہے۔جے شنکر نے کہا کہ بھارت امریکا تعلقات کو آگے بڑھانے کی امید رکھتا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر ان مسائل میں پیش رفت ہوتی ہے تو دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔