چیف الیکشن کمیشنر کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج جاری

غلام نبی آزاد کی اپوزیشن جماعتوں سے متحد ہونے کی اپیل

سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہوکر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں۔ یہ معاملہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر جاری تنازع کے درمیان سامنے آیا ہے۔اننت ناگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ اگر انتخابی فہرستوں سے لوگوں کے نام حذف کیے جانے کے بعد انتخابات کرائے جائیں تو ان انتخابات کی ساکھ پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل سے متعلق دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔آزاد نے کہا کہ اب اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہوکر پارلیمنٹ میں اس معاملے پر فیصلہ کرنا اور اپنی آواز بلند کرنا چاہیے۔ان کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ مطالبات ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے انتخابی فہرستوں اور ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات اٹھائے تھے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس معاملے کو محض سیاسی الزام قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مبینہ اعتراضات الیکشن کمیشن کے تین ارکان میں سے دو ارکان کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاملہ صرف ایک سیاسی الزام ہوتا تو اسے مختلف انداز میں دیکھا جا سکتا تھا، لیکن جب کمیشن کے دو ارکان اس بارے میں سوال اٹھا رہے ہوں تو اس پر توجہ دینا ضروری ہے اور کارروائی ہونی چاہیے۔رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنروں کے اعتراضات میں نئے ووٹروں کی رجسٹریشن، انتخابی فہرستوں سے نام حذف اور بحال کرنے، ووٹروں سے متعلق احکامات کے خلاف اپیلوں اور انتخابی فہرستوں کے اعداد و شمار تک رسائی جیسے معاملات شامل تھے۔تاہم الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ادارے کے اندر مختلف آرا اور مشاہدات کا سامنے آنا معمول کی ادارہ جاتی مشاورت کا حصہ ہے۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر سمیت اہم فیصلے مکمل کمیشن نے متفقہ طور پر لیے ہیں اور اس کے احکامات کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔آزاد نے کہا کہ اس تنازع نے بھارت کی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے حوالے سے دیرینہ عالمی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ انہوں نے 1977 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ان کی جماعت سیاسی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود انتخابات ہار گئی تھی اور ایسے واقعات نے بھارت کے جمہوری نظام کے بارے میں عالمی سطح پر اعتماد پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ موجودہ تنازع کا کس طرح جواب دینا چاہتی ہیں۔ آزاد نے کانگریس سے علیحدگی کے بعد ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی قائم کی تھی۔